خطبات محمود (جلد 6) — Page 317
۳۱۷ ۔۔۔ ایک انسان خدا کے نائب کے ہاتھ پر بیعت کر کے اُدھر نہ چلے۔ جدھر چلانا اس کو مقصد ہے۔ اور اپنے الہ نفس کی خواہش کی پیروی کرے۔ تو اس کی باگ خدا کے ہاتھ میں نہیں ۔ بلکہ اس کے نفس کے ہاتھ میں ہے۔ خدا کے ہاتھ میں اس کی باگ تبھی ہو گی جب خدا کے منشاء کو پورا کریگا۔ اور جدھر کو اس کو کھینچا جائے کھنچتا چلا جائے۔ جب تک یہ نہیں ۔ دعوی بیعت باطل امل ہے ۔ ہے افسوس ! حریت کے غلط معنے سمجھنے کی وجہ سے جماعت کے بعض لوگوں میں بھی یہ بات پانی جاتی ہے جب ان کو کوئی کام سپرد کیا جاتا ہے تو بعض تو کہتے ہیں۔ ہم اس کام کے قابل نہیں۔ بعض کہتے ہیں ۔ ہمیں اس کام سے مناسبت نہیں ۔ بعض کہتے ہیں یہ کام ہماری طبیعت کے مخالف ہے حالانکہ ان کا یہ قول و فعل ان کی بیعت کے مخالف ۔ ان کے ایمان کے مخالف ان کے اس یقین کے مخالف ہے جسکے وہ مدعی ہیں۔ بیعت کے بعد تو شکل سے مشکل کام پر ان کو لگایا جائیگا۔ اور ان کا فرض ہو گا کہ وہ اس کام کو بجا لائیں ۔ پر اگر یہ نہ ہو۔ او اور ہر شخص مشکل سے جی چراتے تو پھر مشکل کاموں کو کون کرے۔ رہے۔ اور پھر وہ حصہ خالی - جنگ میں کوئی پہلی لائن میں نہ جاتے ۔ دنیاوی معاملات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ افسر جہاں کا رہ جاتے ۔ لا مر جہاں کھڑا لا میں ہم ہیںکہ انرجیا کرتا ہے وہاں کھڑے ہونا پڑتا ہے۔ اور افسر کی اطاعت ضروری ہوتی ہے ۔ اسلامی طریقی میں استعفیٰ کا کوئی طریق نہیں۔ دنیاوی جنگوں کے موقع پر بھی اگر کوئی شخص استعفیٰ پیش کرے۔ تو اس کو سزادی جاتی ہے۔ حریت کا دعویٰ کرنے والی قو میں جو ذرا ذراسی بات پر پڑا تیک کر دیتی ہیں ۔ جنگ کے موقع پر کوئی استعفیٰ نہیں دیتیں۔ وہ فلسفی حکومتیں جن میں ہر ایک شخص مرضی کا مالک کہا جاتا ہے۔ ان میں جنگ کے موقع پر کوئی سپاہی استعفیٰ نہیں دیتا۔ اس وقت میں حریت کے دلداد سے بھی اس خیال کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اور کوئی استعفیٰ وغیرہ نہیں رہتا۔ تو دینی حکومت جس میں پہلے ہی یہ قانون نہ تھا اس میں کیسے اب ہو سکتا ہے۔ جو ایسا کرتا ہے۔ وہ غلطی کرتا ہے۔ گناہ کرتا ہے۔ مومن کا فرض ہے کہ اسے جس کام پر مقرر کیا جاتا ہے ۔ اس کو بجالاتے ۔ اس سے یہ نہیں نا جاسکتا ہے کہ اس کو اس کام سے لگاؤ نہیں۔ اور وہ اس کام کا اہل نہیں۔ اگر فی الواقعہ وہ اہل بھی نہ ہو گا۔ اور محض خدا کے لیے اس کام کو کریگا۔ تو خدا تعالیٰ اس نیک نیتی کے باعث اس کو اس نیک کام کے سرانجام دینے کی توفیق دے گا۔ اور خدا آپ اس کو ہمت دیگا۔ اور اس کی طرف سے نصرت اس کا ہاتھ بٹانے کے لیے آئے گی۔ دیکھو ابو عبیدہ اس کام سے انکار نہیں کرتا جس پر اسے متعین کیا جاتا ہے ۔ اور ابوعبیدہ وہ