خطبات محمود (جلد 6) — Page 316
٣١٩ کو علم نہ تھا۔ میں یہی ایک مثال ہے جو استعفیٰ کی ملتی ہے۔ ورنہ اسلام کے سارے زمانے میں ایک بھی نظیر میں نہیں کہ کسی شخص کو کسی کام پر مقر ر کیا گیا ہوں اور اس نے اس کام سے نفرت یا خلاف طبیعت ہونے کے باعث علیحد گی چاہی ہو۔ اور کہا ہو کہ یہ کام میری طبیعت کے مخالف ہے اور مجھے اس کام سے لگاؤ نہیں۔ یہ کام ۔ یہ کام میری لیاقت سے بالا ہے۔ مجھے اس سے دلچسپی نہیں۔ کیونکہ یہ نفس کے دھوکے ہیں ۔ کیا اسامہ حکبر تھا کہ اس کے ماتحت عمر اور عمرو بن العاص اور خالد بن ولید ایسے اشخاص کو کر دیا یا عرب کے سب کے سب لوگ اس قسم کے تھے کہ وہ انکسار مجسم تھے۔ یا عرب کے لوگوں کو ہر ایک کام سے جس پر انہیں متعین کیا جاتا تھا۔ فطرتی لگاؤ تھا یا ان سے غلطی نہ ہوتی تھی ۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہ تھی ۔ نہ تو عرب کا ہر ایک باشندہ علم و ہنر کا ماہر کامل ہوتا تھا ۔ نہ یہ کہ انتخاب میں غلطی نہ ہوتی تھی اور تو اور بعض اوقات رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم سے انتخاب میں غلطی ہو جاتی تھی ۔ پہلے آپ ایک شخص کو مقرر کرتے مگر پھر اس کو بدل دیتے ۔ - اور اور اس کی کی جگہ ایک اور شخص کو کھڑا دیتے۔ فتح فتح مکہ کے موقع پر ایک شخص کو افسر مقرر فرمایا، لیکن تھوڑی دیر میں اس کو بدل کر دوسرا مقرر کر دیا ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انتخاب میں غلطی ہو جاتی تھی۔ حضرت ابوبکر نے خالد کو افسر بنایا، لیکن حضرت عمر نے ان کو بدل کر ابو عبیدہ بن الجراح کو مقرر فرما دیا۔ ظاہر ہے کہ دونوں میں سے ایک تشخص احق تھا، لیکن اس ادل بدل میں کسی نے یہ نہیں کہا کہ مجھے اس کام سے معاف فرمایا جائے ۔ کیونکہ جب انہوں نے بعیت کی تھی۔ تو بیعت کرنے والے کو اختیار نہیں ہوتا ، کہ وہ یہ سوال اُٹھاتے کہ میں یہ نہیں کر سکتا ۔ یا وہ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ بیعت کرنے والے نے اپنی آزادی تو بیچ دی۔ اگر وہ یہ کہے کہ میں یہ نہیں کر سکتا تو اس نے خدا کے ہاتھ پر یا اس کے نائب کے ہاتھ پر کیا بیعت کی ؟ کیونکہ وہ تو وہ کام کرتا ہے ، جو اس کا نفس چاہتا ہے جب نفس کے خلاف ہوتا ہے تو کہ دیتا ہے کہ میرا استعفیٰ ہے ۔ مثنوی والے کہتے ہیں کہ چوہا اُونٹ کی مہار پکڑ کر ادھر لے جاتا ہے ۔ جدھر اونٹ جا رہا ہو۔ لیکن اگر اونٹ ادھر نہ جانا چاہتا ہوا آدمی بھی اُدھر شکل سے لے جاسکتا ہے ۔ اسی طرح اگر له سعد بن عباده و که سیرت ابن ہشام جلد ۲ حالات فتح مکہ