خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 304

شر قصتہ مشہور ہے۔ خدا جانے کہاں تک درست ہے، کہتے ہیں کہ قیس ہیلی کی گلی میں چکر لگا رہا تھا۔ میلی کا کتا گزرنے لگا۔ تہیں اس کو لپٹ گیا۔ اور اس کو پیار کیا۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو پاگل ہے قیس نے جواب دیا۔ میں پاگل نہیں، پاگل تم ہو۔ کیونکہ میں جو کتے کو پیار کرتا ہوں۔ تو اس لیے نہیں کہ یہ کتا ہے بلکہ اس لیے کرتا ہوں کہ یہ لیلیٰ کا کہتا ہے ۔ اسی طرح جس دل میں اللہ کی محبت ہے۔ اس کو اللہ کی مخلوق سے محبت ہے۔ اور جو شخص بندوں سے محبت و ہمدردی نہیں رکھتا۔ اسی قدر وہ خدا کی محبت سے خالی ہے، مگر وہ محبت خدا کے لیے ہو جس طرح بغض جو خدا کے لیے ہو بغض نہیں ہے۔ اسی طرح جو محبت خدا کے لیے نہ ہو۔ محبت نہیں۔ بعض ہے۔ مثلاً ایک شخص بیوی ۔ بچوں ۔ عزیزوں اور قو اور قریبیوں سے محبت رکھتا ہے ۔ یہ خدا کی مخلوق ہیں، لیکن ان کے لیے رشوت لیتا ہے چوری کرتا ہے۔ ڈاکہ ڈالتا ہے۔ اس کو بیشک خدا کی مخلوق سے محبت ہے ، لیکن یہ محبت خدا کے لیے نہیں ۔ اس لیے یہ محبت نہیں ۔ کیونکہ در حقیقت یہ شخص اسی طرح اپنے نفس اور ان لوگوں سے دشمنی کرتا ہے۔ پس خدا کی مخلوق سے محبت ہو۔ اور خدا کے لیے ہو۔ تب ایمان ہوتا ہے۔ جبتک یہ نہ ہو سمجھنا چاہیئے کہ خدا کی محبت اور ایمان میں بھی کمی ہے ۔ : ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ نے محبت کے تمام ذرائع کو جمع کر دیا ہے۔ ایک مرکز ہے۔ اور قاعدہ ہے کہ ایک مرکز سے تعلق رکھنے والوں کو آپس میں محبت ہوتی ہے۔ جیسا کہ ایک مدرسہ میں پڑھنے والوں میں محبت ہوتی ہے ۔ مثلاً ایک لڑکے پر کوئی اُفتاد پڑے۔ تو دوسرے لڑکے اس کی مدد کو کھڑے ہو جاتے ہیں یا مثلاً ایک گاؤں میں محبت ہوتی ہے ۔ یا ملکوں اور ایک حکومت کے ماتحت رہنے والوں میں ہوتی ہے۔ یہ تو عارضی تعلقات ہیں مگر جو خدا نے تعلق ہم میں پیدا کیا ہے۔ وہ ایک دائمی تعلق ہے پس اگر تعلق کے باوجود بھی جو ایمانی ہے۔ ہم میں بے تعلقی ہو۔ تو اس سے بڑھکر اور کیا برائی ہو سکتی ہے بے تعلقی پر فخر نہیں کیا جا سکتا۔ خدا سے دشمنی نہ ہونا قابل فخر نہیں، بلکہ فخر اور تعریف کے قابل خدا سے دوستی اور محبت کا ہونا ہے جس شخص کے دل میں عداوت ہو ۔ وہ مسلمان نہیں ۔ اور ہدایت سے دور ہے ۔ انسان کے لیے اچھا درجہ یہ ہے کہ اس کے دل میں بھائیوں کی محبت اور اخلاص ہے ۔ کیونکہ اسلام اور محبت لازم و ملزوم ہیں۔ پس جب تک محبت نہ ہوانسان مسلم نہیں ہو سکتا۔ عداوت اسفل ترین درجہ ہے ۔ اور بے تعلقی کہ نہ محبت ہو نہ عداوت ۔ اس سے اونچا مگر قابلِ فخر نہیں ۔ محبت و اخلاص اصل درجہ ہے۔ پس بغض و عداوت اور بے تعلقی اور اسلام جمع نہیں ہو سکتے۔ ارونه