خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 303

۳۰۳ میں نہ دشمنی اس پر بھی فخر نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس کو بھی اعلی درجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور نہ اس مقام پر کھڑاہونے والا کہ سکتا ہے کہ میں اعلیٰ درجہ پر ہوں کہ مجھے نہ کسی سے شمنی ہے نہ دوستی کیونکہ و شخص اپنے تئیں نیک اور تقی قرار نہیں دے سکتا۔ جو کہے کہ میں خدا کا دشمن نہیں ۔ یہ کوئی نیکی نہیں ۔ کیونکہ اس نے خدا سے جو نیکی کا سر چشمہ ہے کچھ تعلق نہیں رکھا ۔ اسی طرح جو شخص اللہ کے بندوں سے محبت نہیں رکھتا۔ وہ در حقیقت خدا سے بھی تعلق نہیں رکھتا ۔ اسلام میں دو باتیں ہیں۔ بندوں اور خدا سے تعلق رکھنا، دشمنی رکھنا ادنی ترین درجہ ہے۔ اور دشمنی و دوستی دونوں نہ رکھنا اس سے اوپر کا درجہ ہے ۔ اور اس سے اوپر اور آخری درجہ ہے۔ خدا کے بندوں سے اخلاص اور محبت رکھنا، اور پھر اخلاص اور محبت کے بھی مدارج ہیں۔ قرآن شریف میں جو آتا ہے۔ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَائِي ذِي القربي (النحل : (۹) در حقیقت یہ تینوں درجے بھی محبت کے ہیں۔ عدل بھی درجہ محبت ہے اور احسان بھی اور ایتا۔ ذی القربی بھی۔ ان تینوں کو حاصل کرنا چاہتے ۔ اگر اسلام کہتا ہے کہ آپس میں تباغض نہ کرو۔ تو یہ نہیں کہ ان باتوں سے باز رہنا اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔ بلکہ چونکہ یہ باتیں محبت کے دور کرنے والی ہیں۔ اس لیے فرمایا ، ان سے دور رہو۔ یہ نہیں کریسی اصل مقصود ہیں۔ بلکہ اصل مقصود محبت و اخلاص ہے ۔ بہت لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔ جولوگ بے تعلق رہتے ہیں ۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کے دل میں خدا کی مخلوق کی محبت نہیں اور جو شخص خدا کی مخلوق سے محبت محبت نہیں رکھتا وہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اس کو خدا سے محبت ہے ، جو شخص اعتصام بحبل اللہ کرتا ہے ۔ ہو نہیں سکتا کہ وہ خدا کی مخلوق سے بے تعلق ہو۔ اور اس کی محبت نہ ہو۔ اور اس کے لیے دل میں ہمدردی نہ ہو۔ اگر کوئی شخص محبت الہی کا دعوامی کرتا ہو اور خدا کی مخلوق کی محبت و ہمدردی سے خالی ہے ۔ وہ ثابت کرتا ہے۔ کہ اس کو اسلام اور تقویٰ سے چنداں تعلق نہیں۔ خدا کی مخلوق سے ہمدردی اور محبت اور خدا کی محبت دونوں ایک چیز ہیں۔ الگ الگ نہیں ۔ ہدایت ملتی تب ہے جب خدا کی مخلوق کی انسان کے دل میں محبت ہو۔ جب یہ نہ ہو۔ تو ہدایت بھی نصیب نہیں ہوتی۔ اس کی ایک نظیر بھی نہیں مل سکتی، نہ نبی کی نہ ولی کی ان کو خدا سے محبت تھی، اور اس کی مخلوق سے دشمنی ۔ اور وہ لوگوں سے بے تعلق تھے ، یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک چیز سے واقعی پیار ہو مگر اس کے متعلقین سے پیار نہ ہو۔ خدا سے جو محبت کرتا ہے ، ممکن نہیں کہ خدا کی مخلوق سے نہ کرے اگر وہ خدا کی مخلوق سے بے تعلق ہے۔ تو اس کے دل میں خدا کی بھی محبت نہیں۔