خطبات محمود (جلد 6) — Page 291
۲۹۱ 55 حسد کے مرض سے بچو ) فرموده ۲۹ اگست ۱۹۱۹ ) ( حضور نے تشد و تعوذ ، سورۃ فاتحہ اور سورۃ الفلق کی تلاوت کے بعد فرمایا :- سورہ فلق میں ان تمام اشیاء سے اللہ تعالیٰ نے پناہ مانگنے کی دعا سکھاتی ہے۔ جو انسان کے لیے ضرر رساں ہوتی ہیں۔ خلق کے معنے ہوتے ہیں۔ مخلوق کے۔ اور یوں تو قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں تمام ہی مخلوق کی بدیوں سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ مگر باوجود اس کے جس جس رنگ میں کوئی دکھ پہنچ سکتا ہے۔ اس سے بھی بچنے کی اللہ تعالیٰ نے دعا سکھاتی ہے ۔ پھر سب سکھاتی ہے۔ دکھ دینے والی چیزوں سے دو کو علیحدہ کر لیا ہے اور وہ دو چیزیں شر النفتِ اور شرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ہیں ۔ بیشک شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ کو بھی علیحدہ کیا ہے۔ اور اس میں بھی بہت وسیع مضمون ۔ میون ہے اور وہ ہر قسم کی تکلیف پر مشتمل ہے، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے یہ دونوں باتیں خاص تعلق اور وابستگی رکھتی ہیں۔ اسی لیے ان دونوں کو علیحدہ کر کے دُعا میں شامل کیا ہے ۔ آج میں ان دونوں امروں میں سے ایک کے متعلق اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں۔ حسد کو ایک عربی کا لفظ ہے۔ مگر ہماری زبان میں بھی کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے اور ہندوستان کا بچہ بچہ جو ار دو یا پنجابی زبان رکھتا ہے جسد کو خوب جانتا ہے۔ اور ایسا شخص جس پر حسد کرنے کا شبہ بھی ہو۔ اس کی مذمت کی جاتی ہے۔ مگر باوجود اس کے کہ یہ لفظ ہماری زبان میں مستعمل ہے۔ اور لوگ اس کو خوب سمجھتے ہیں۔ اور باوجود اس بیماری کی شدت کو جاننے کے اور با وجود اس کے کہ اس سے نفرت کرتے ہیں۔ پھر بھی عمداً اس میں لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔ اور باوجود حسد کو اس لحاظ سے جاننے کے کہ حسد کی موٹی ہیں۔ تعریف ان کو معلوم ہوتی ہے۔ اور باوجود اس علم کے کہ حسد بُری چیز ہے۔ اور نفرت کے طور پر جس کو گالی دینی ہو اسے حاسد کہتے ہیں۔ پھر بھی اپنے آپ کو اس سے نہیں بچاتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حسد کی جو حقیقی تعریف ہے ۔ اس سے لوگ نا واقف ہیں۔