خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 28

۲۸ طریقوں پر نظر نہ کی جائے جو خُدا یا اس کے رسول نے بتاتے ہیں۔ تو کوئی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اگر شخص اگر کوئی شخص ایمان کے بعض حصوں کو مل نہیں کرتا تو وہ محفوظ نہیں ہو سکتا۔ مثلا کوئی شخص مکان تعمیر کرے اور صرف دور دیواریں اونچی کھڑی کر دے اور کہے کہ میرا مکان مکمل ہو گیا۔ تو اسکا دعوی غلط ہوگا کیونکہ جب تک چار دیواریں نہ ہوں اور ان پر چھت نہ ہو مکان نہیں کہلا سکتا ۔ اسی طرح جب تک ایمان کے تفصیلی اجزاء کو نہ معلوم کیا جائے اور ان پر عمل نہ ہو۔ ایمان کو مکمل اور کامل نہیں کہا جا سکتا ۔ ۔ پس ضرورت ہے کہ ہر ایک شخص اجزاء ایمان پر نظر رکھے۔ ایک شخص سارا دن نماز پڑھے جگر با وجود صاحب نصاب ہونے کے زکواۃ نہ دے ۔ یا زکواۃ دے مگر صحت اور راستہ کے پر امن ہونے کے باوجو د حج نہ کرے اس کو کامل ایمان نہیں نصیب ہوگا۔ بعض لوگ صرف خدا سے محبت رکھتے ہیں اور بعض کسی خاص جزو کے متعلق اپنے اندر غلو بھی پاتے ہیں۔ مثلاً صدقہ میں ہی اس قدر بڑھتے ہیں کہ ان کی دادوستد کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ انکا سینہ خدا کی محبت کے جوش سے پڑ ہے مگر حقیقت حال یہ ہے کہ وہ ایمان کے ثمرات سے بے نصیب ہوتے ہیں اور عرفان اللی سے نامرادر اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہی حصہ پر انکا سارا زور ہوتا ہے اور باقی حصوں سے بے تعلق ہوتے ہیں اور تفصیلی حصوں پر نظر نہیں کرتے ۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ وہ ابتلاء میں پڑ جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ان کی اپنی غلطی ہوتی ہے۔ پس ہر ایک شخص کو چاہتے کہ وہ ایمان کی تفصیل پر نظر ڈالے جب تک تفاصیل پر نظر نہ ہو کامیابی نہیں ہو سکتی صحیح ذرائع پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے لوگ کسی بات پر توجہ نہیں کر سکتے ۔ بعض لوگوں کے دلوں میں عشق الہی کی ایک آگ سی لگی ہوتی ہے لیکن دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ شخص ابھی عرفانی مقام سے بہت نیچے ہے۔ اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ صحیح ذرائع کو استعمال نہیں کرتے ۔ یا بعض صحیح ذرائع کو استعمال کرتے ہیں اور بعض کو نہیں۔ کیونکہ بعض کے متعلق خیال کر لیا جاتا ہے کہ معمولی ہیں۔ اور جب ایک ذریعہ کو معمولی خیال کر لیا گیا۔ تو پھر اس پر سے توجہ اُٹھ جاتی ہے اور اس پر عمل نہیں رہتا، لیکن اس کے چھوڑنے کی وجہ سے اس قدر ایمان کم ہو جاتا ہے جتنا اس کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے اور اسی طرح جتنے ذرائع کو چھوڑا جاتے اتنا ہی زیادہ ایمان میں نقص اور کمی پیدا ہوتی جاتی ہے اور بالآخر وہ کسی کام کا نہیں رہتا ۔ ایک مثال مشہور ہے کہتے ہیں ایک شخص کو