خطبات محمود (جلد 6) — Page 260
کرتا ہے۔ پیس بولنے والا وہ نہیں جسکو مرزا کہتے ہیں۔ بلکہ بولنے والا وہ ہے جسکو خُدا کہتے ہیں۔ نادان انسان بڑے افسر کے چپڑاسی کو دیکھتے ہیں۔ اور اسے حقیر سمجھکر اس کے لائے ہوئے احکام کی پروا نہیں کرتے۔ در حقیقت وہ احکام معزز ہوا کرتے ہیں جو ہ لیکر آتا ہے۔ اس لیے اس کو حق نہیں کہا جاسکتا کیونکہ بادشاہ نہیں کے احکام میں چھوٹے بڑے کا فرق نہیں ہوتا۔ اس لیے چپڑاسی کی طرف نہیں دیکھنا چاہتے ۔ بلکہ اس کی طرف دیکھنا چاہتے جس کے حکم سے وہ آتا ہے اور جس کا حکم لانا ہے تو خدا تعالی کا برگزیدہ آیا اورخدا کے احکام لایا ۔ مگر دنیا نے اس کی مخالفت کی۔ اور ایسی مخالفت کی کہ اس کی جان تک لینے سے دریغ نہ کیا۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟ دنیا دیکھ رہی ہے۔ کہ اس کے انکار کے بعد دوباتیں آئیں۔ ابتلاء آتے لوگ دُکھوں میں گرفتار ہوئے جنگوں میں ڈالے گئے۔ زلزلوں سے زیروز بر کئے گئے طوفانوں باد کئے گئے قحط سے ہلاکت میں ڈالے گئے کہیں قحط بارش کی قلت سے آئے تو سے بر بادا ت سے آئے تو کہیں کثرت بارش سے آتے۔ اور اگر ایک جگہ کے لوگ ایک ایک قطرہ کو ترسنے لگے۔ تو دوسری جگہ اس کثرت بارش ہوئی کہ لوگوں کے کھیت کھڑے کے کھڑے سڑ گئے۔ پہلے قحط کبھی بارش کے نہ ہونے سے پڑتا۔ اور کبھی زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے فصلوں کے گل سڑ جانے سے پڑتا، لیکن اس زمانہ میں یہ دونوں باتیں ایک وقت میں جمع میں جمع ہوگئی ہیں۔ اور ان کے علاوہ ہر رنگ میں بلائیں آر ہی ہیں۔ اور اس کثرت سے آ رہتی ہیں کہ کوئی چکین سے زندگی بسر نہیں کر رہا ۔ لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی زندگی ان پر تلخ ہورہی ہے۔ اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی زندگی موت سے بدتر ہے۔ مگر تعجب ہے کہ باوجود ایسی حالت کے پھر بھی وہ اس کے اس ، کے اس علاج کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ جو خدا نے ان ہلاکتوں سے بچانے کے لیے مقرر کیا ہے۔ یہ مانتے ہیں کہ متے ہیں کہ دنیا میں خدا کا عذاب نازل ہے جس میں ہم گھرے ہوتے ہیں مگر اس پر غور نہیں کرتے کہ یہ کیوں آیا ہے ۔ سے پچھلے ہفتے سیلون سے جو خطہ آیا ہے اس میں وہاں کے قحط کے حالات لکھے ہیں۔ جو نہایت ہی سے خ دردناک طور پر نہایت تفصیل سے لکھے ہیں۔ میں نے جب اس کا ابتدائی حصہ پڑھا تو خیال کیا کہ رو پیر کی مدد چاہتے ہونگے لیکن جس وقت میں اخیر پر پہنچا۔ تو ایک ایسا فقرہ پڑھا جس سے معلوم ہو گیا کہ وہاں کے لوگوں کی حالت بہت ہی دردناک ہو گئی ہے وہ فقرہ یہ ہے کہ ہماری حالت نہایت ہی دردناک ہے۔ اور خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں چند بوریاں آٹے کی بھیجوائی جائیں۔ ہم پر یوسفٹ کے سے سال گزر رہے ۔ ہم مدد چاہتے ہیں، لیکن روپیہ کی صورت میں نہیں بلکہ غلہ کی صورت میں۔ کیونکہ یہاں روپیہ دیگر بھی غلہ نہیں ملتا۔ یہ فقرہ تھا کہ جس نے اس خطر ناک حالت کو مجھ پر ظاہر کر دیا اور معلوم ہوا کہ وہ کن حالات