خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 259

۲۵۹ ظاہر ہوتے ہیں۔ تب ان کو پتہ لگتا ہے کہ ہم کس حالت میں تھے۔ اور اب ہم کس حال میں ہیں ۔ گته بجائے بہت جگہوں پر اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں۔ کہ آتش فشاں پہاڑوں پر اس لیے لوگ آباد ہو گئے کہ یا تو انہیں ان کی آتش فشانی کا پتہ نہ تھا۔ یا یہ کہ ان سے س قدر کم مادہ نکلتا تھا کہ لوگوں نے خیال کر لیا کہ اب ہم امن میں ہیں، لیکن جب بن جب مادہ میں جوش آیا تو یکلخت تباہ و برباد ہو گئے ۔ اور خوبصورت شہر کی بجا۔ ویران کھنڈرات بن گئے۔ یہی حال نبیوں کے مخالفوں کا ہوتا ہے۔ ان کے متعلق بھی ایک ظاہر مین نہیں کر سکتا کہ وہ کبھی ہلاک ہوں گے۔ اور اگر ہونگے تو کیسے دیگر ان کے گھروں کی بنیادوں اور چھتوں کے نیچے ایسے سامان ہلاکت جمع ہو رہے ہوتے ہیں کہ جب وقت آتا ہے۔ تو ایک منٹ کی دیر نہیں لگتی کہ وہ ہلاک ہو جاتے ہیں اور کوئی نہیں بتا سکتا کہ وہ کیا ہوتے۔ جاوا میں ابھی ایک آتش فشانی کا واقعہ ہوا ہے کہ وہاں ایک بہت بڑا شہر تھا جس کی آبادی ہزاروں کی تھی۔ اور ایسا شاداب تھا۔ کہ اس کی شادابی اور سرسبزی سے فائدہ اُٹھانے کے لیے لوگ اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر وہاں آکر رہتے۔ اور اپنے گھر بناتے۔ اور موسم گزارتے تھے۔ مگر چند ہی دن ہوئے وہاں اور ایک ایسا خطرناک ازل نہ آیاکہ تمام کاتمام شرتباہ ہوگیا۔ ساٹھ ہزار کے قریب لوگ مرگئے کیا اسکی شادابی اور سرسبزی کو دیکھ کر کوئی خیال کر سکتا تھا کہ اس کے نیچے آگ جمع ہے لیکن اس کے نیچے آگ تھی جو نظر نہیں آتی تھی۔ اس کے رخ بدل لینے سے لوگوں نے نیا کردیا تھا کہ اب کوئی خطرہ ہیں مگر ان کا یہ خیال ان کو ہلاکت سے نہ بچا سکا۔ می حال نبیوں کے دشمنوں کا ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں مگر ان کی بربادی کے سامان ان کے گھروں کے نیچے موجود ہوتے ہیں۔ اس زمانہ میں جب اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک نبی بھیجا۔ تو بے وقوفوں نے اپنی بیوقوفی سے خیال کیا۔ کہ اس کے پاس نہ فوج ہے۔ نہ اس کے پاس مال ہے۔ نہ طاقت ہے۔ نہ جتھا ہے۔ یہ ہمارا کیا بگاڑ سکتا ہے ۔ انہوں نے اس کے ہاتھ کو دیکھا۔ اس پر جھوٹے مقدمے کھڑے کئے کہ اس کو قید کرا دیں ۔ انہوں نے اس پر پتھر پھینکے اور خیال کیا کہ اس طرح ہم اسے مار دینگے ۔ انہوں نے زہر دینی چاہی کہ اس طرح ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیگا۔ انہوں نے قتل کرنے کی کوششیں کیں کہ اس طرح یہ سکوت اختیار کرلے گا مگران نادانوں نے یہ نہ جانا کہ شخص جس کو ہم مارنا چاہتے ہیں۔ یہ تو بول ہی نہیں رہا۔ بولتا وہ ہے جس کو کسی زہر سے مارا نہیں جا سکتا۔ جس کو کسی اور طریق سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ جس کو کوئی حکومت قید نہیں کر سکتی۔ بلکہ وہ جس کو چاہتا ہے۔ قید میں ڈالتا ہے جس کو چاہتا ہے مارتا ہے اور جس کو چاہتا ہے۔ زندہ