خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 252

۲۵۲ کو کسی الہام ہوا ۔ دوسرے دن بھی ہوا۔ اور پھر میرے دن بھی ہوا۔ آپ دُعا کرنے سے باز کیوں نہ نہیں آتے انہوں نے جواب دیا کہ اسے بیوقوف تو تین دن میں ہی گھر گیا ۔ میں تو بیس سال سے متواتر یہی جواب سن رہا ہوں میں نہیں گھرایا۔ کیونکہ مانگنا میرا کام ہے اور دینا خدا کا۔ وہ اپنی مرضی کا مالک ہے اور میں اپنے کام کا ذمہ دار میں محتاج ہوں کہ اس سے مانگوں اور وہ مختار ہے کہ قبول کرے یا نہ کرے نہیں وہ اپنا کام کرتا ہے میں اپنا ۔ تو اس میں دخل دینے والا کون ہے۔ لکھا ہے کہ اس کے بعد جب اس بزرگ نے دُعا کی تو الہام ہوا کہ چونکہ تو میری رحمت سے مایوس نہیں ہوا ۔ اس لیے تو نے بیس برس میں جتنی دعائیں کی ہیں وہ سب کی سب قبول کر لی گئی ہیں۔ یہ تو مثال ہے زید و بکر کی ، لیکن ہر شخص کے لیے اس کی اپنی ذات میں ہزاروں اور لاکھوں تائیں ہیں مگر افسوس کہ لوگوں کو یاد نہیں رہتیں۔ اگر وہ غور کرینگے تو رکھیں گے کہ خدا نے کئی بار عین نا امیدی کی حالت میں انہیں امید کی جھلک دکھائی ۔ ناکامیوں میں کامیابی کی راہ بتائی جب تمام دنیا وی سامان منقطع ہو گئے تھے۔ اس وقت اپنی تجلی دکھائی۔ اور یہ شالیں کافی سے زیادہ شخص کو میں گی۔ مگر با وجود استقدر مثالوں کے لوگ خدا کی رحمت سے مایوس ہی ہو جاتے ہیں۔ کوئی بلا آئی، تو خیال کر لیتے ہیں کہ یہ توان کا کام ہی تمام کر دیگی ۔ اور وہ خدا کی رحمت سے غافل ہو جاتے اور باوجود خدا کے بے شمار احسانات کو اپنے وجود پر مشاہدہ کرنے کے خدا کی رحمت کو بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اگر خدا کی قہری تجلی ان کی آزمائش کے لیے آتی ہے۔ تو بھی وہ اپنی رستنگاری سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ اور جب صرف امید ہی امید کرتے ہیں۔ تو بھی خدا کے احسانات کو بھلا دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انعامات سے محروم کر دیتے جاتے ہیں۔ پس یاد رکھو کہ کامیاب وہی ہوتا ہے جو دونوں حدوں کے درمیان در میان رہتا ہے۔ مجھے اس وقت خوف کے متعلق کچھ بیان نہیں کرنا ، بلکہ میں مایوسی کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں سو یاد رکھو کہ مایوس نہ ہونے کا گر اللہتعالیٰ نے ایسا تعلیم کیا ہے کہ اس کی وجہ سے انسان ہر میدان میں کامیاب امیاب ہو سکتا ہے ۔ ہماری جماعت کے ایک مخلص ہیں۔ جو ایم ۔ اے ہیں اور عربی میں بھی بہت قابل ہیں۔ وہ کئی سال سے ایک بیماری میں مبتلا تھے اور کسی کام کے کرنے کے قابل نہ رہے تھے۔ آخر وہ گھبرا گئے اور انہوں نے مجھے لکھا کہ اب میں اس حالت تک پہنچ گیا ہوں کہ اس کو برداشت نہیں کر سکتا ۔ میں اپنی ملازمت کو چھوڑ کر اپنے گھر بیٹھ جاؤنگا ۔ میں نے ان کو اس وقت خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ میں آپ کو ایک نسخہ لکھتا ہوں ۔ اگر آپ اس پر عمل کرینگے تو انشاء اللہ ضرور فائدہ