خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 207

۲۰۷ 40 ہمارا ہتھیار دُعا ہے د فرموده و رمتی شاه ) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- سے دیے ہماری جماعت کی حالت اور اس کی تعداد اور اس کی طاقت جتنی بھی ہے ۔ دوسرے لوگ تو اس کو حقار دیکھتے ہی ہیں مگر ہم بھی ہم بھی اپنی حقیقت سے نا واقف نہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ عموماً لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھا کرتے ہیں۔ ذرا کسی کو مال ملتا ہے تو وہ اپنے آپ کو فرعون سے بڑا سمجھتا ہے ۔ ذرا کسی کو طاقت میسر ہوتی ہے۔ تو وہ رستم سے زیادہ جری اپنے آپ کو سمجھتا ہے۔ مگر ہماری کمزوری اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ ہم اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہیں ۔ حالانکہ لوگ اپنی کمزوری کو محسوس نہیں کیا کرتے۔ ہم مال کے لحاظ سے دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ اور نہ قوت سے مقابلہ کر سکتے ہیں نہ طاقت سے اور نہ جتھے کے لحاظ سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ نہ سیاسی رسوخ سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ نہ حکومت سے نہ سلطنت ہے ۔ غرض ان باتوں میں سے کسی بھی لحاظ سے ہمیں کسی قسم کی فوقیت دنیا پر حاصل نہیں۔ اس کے مقابلہ میں ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کوئی بھی مذہبی سلسلہ نہیں جو ہمارا دشمن نہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی کمزور ہو۔ مگر اس کا دشمن بھی نہ ہو۔ تو با وجود اس کے کمزور ہونے کے اس کے لیے خطرات نہیں ہیں۔ چونکہ اس کے مقابلہ میں کوئی نہیں۔ اس لیے اس کو خطرہ نہیں۔ مگر ہمارا معاملہ اس کے الٹ ہے۔ ایک طرف تو کمزور ہم سے زیادہ کوئی نہیں دوسری طرف ہم سے زیادہ کسی کے دشمن نہیں ۔ یا یوں کہو کہ جس قدر مذہبی سلسلے ہیں۔ وہ سب کے سب ہمیں مٹانے کے درپے ہیں۔ کیونکہ جو ہم تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ سب کے سب اس سے ڈرتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ اس تعلیم کے سامنے سب تعلیمی ماند ہو جائیں گی۔ جیسا کہ بکری شیر سے ڈرا کرتی ہے۔ اسی طرح اس تعلیم سے جو ہمیں دیا دیتی ہے تمام سلسلے ڈرتے ہیں۔ اس لیے سارے کے سارے ہمارے مقابلہ کے لیے کھڑے ہیں۔ مذہبی طور پر نہ عیسائی ہم سے ہمدردی رکھتے ہیں اور نہ سکھ ۔ نہ ہندور نہ آریہ نہ چینی نہ بدھوں کو ہم سے ہمدردی ہے۔ نہ کسی اور کو یعنی مذہبی