خطبات محمود (جلد 6) — Page 161
141 توجہ نہیں کرتے۔ جو خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہوتے ہیں۔ اور جن کے مطابق عمل کرنے سے کامیابی اور فلاح حاصل ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک شخص جس کا ایمان اور یقین ہے کہ زمین گول ہے اور یہ بھی وہ جانتا ہے کہ بالمقابل امریکہ ہے ۔ مگر وہ امریکہ جانے کے لیے بجائے اس کے کہ لاہور یہ ہے سے گاڑی پر سوار ہو کر کسی بندرگاہ پر پہنچے اور وہاں سے جہاز پر سوار ہو کر امریکہ جاتے زمین میں سرنگ لگا کر امریکہ جانا چاہیے۔ وہ کہاں پہنچ سکے گا۔ ناکامی اور نامرادی کے سوا اسے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ کیونکہ اس نے ان ذرائع کو اختیار نہیں کیا جو اس مقصد میں کامیاب ہونے کے لیے خدا تعالیٰ نے بناتے ہوتے ہیں۔ تو امنوا و عملوا الصلحت میں یہ ارشاد ہے ۔ کہ انسان نہ صرف ایمان لاتے اور عمل صالح کرے ۔ بلکہ اس کے اعمال ایسے ہوں کہ خدا تعالے نے ان کے لیے جو ذرائع مقرر کہتے ہیں ان کے مطابق ہوں۔ بعض لوگ صلاحیت اور مصلحت کے لفظ سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ حالانکہ عربی میں یہ الفاظ ہمیشہ اچھے ہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ آجکل لوگ کسی معاملہ کے متعلق جب یہ کہتے ہیں کہ سی مصلحت ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ منافقت کے طور پر بات کہدی گئی ہے ۔ لیکن عربی میں ایسا نہیں ہے۔ عربی میں صحیح اور جائز اور اصل ذرائع کے مطابق جو کام ہوگا ۔ اس کے متعلق مصلحت کا لفظ بولا جائیگا۔ تو امنوا و عملوا الصالحت کے یعنی ہیں۔ کہ ایمان لائیں۔ اور پھر عمل کریں ۔ لیکن وہ عمل صالح ہوں۔ یعنی جس بات پر ایمان لایا ہو اس کے حصول کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے جو صحیح ذرائع مقرر ہیں۔ ان پر عمل کیا جائے تو فرمایا۔ اگر نا کامی سے بچنا چاہتے ہو۔ اگر گھاٹے اور نقصان سے محفوظ رہنا چاہتے ہو۔ تو ایمان لاؤ اور اعمال کرو۔ مگر اعمال صالح ہوں ۔ اس طریق کے مطابق ہوں ۔ جو خدا نے ان کے لیے مقرر کہتے ہوتے ہیں ۔ مثلاً ایک شخص ایسے وقت میں جب کہ جہاد ہو رہا ہو۔ کفار مسلمانوں کو قتل کر رہے ہوں۔ لڑائی شروع ہو لیبی نماز پڑھتا رہے۔ تو گو یہ عمل اپنی ذات میں صالح ہے، لیکن موقع اور وقت کے لحاظ سے صالح نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ اس وقت کامیابی کے لیے جو ذریعہ ہے اس پر عمل نہیں ہوا۔ اور اس سے یہ نہیں ہو گا کہ دشمن بھاگ جاتے ۔ دیکھو ہر لحاظ سے سب سے بڑے انسان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ لیکن آپ نے بھی ان دشمنوں سے محفوظ رہنے اور اپنے حقوق کی حفاظت کرنے کے لیے ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے اسلام کے خلاف تلوار اُٹھائی۔ یہ نہیں کیا کہ نمازیں شروع کردی ہوں ۔ بلکہ آپ کو بھی اس موقع پر تلوار ہی اُٹھانی پڑی ۔ اس میں شک نہیں کہ فرصت کے وقت آپ نے کامیابی کے لیے دعائیں بھی کیں۔