خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 160

۱۶۰ کرے۔ لوگ اس وقت تک پیچھے مذہب سے نفرت کرتے ہیں۔ رسولوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی بے قدری کرتے ہیں جب تک انہیں علم اور یقین نہیں ہوتا ۔ اگر انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کیسی ارفع و اعلیٰ ہے۔ اس کا فضل کس قدر وسیع ہے ۔ اس کے ساتھ وابستگی کیسی دائمی ہے تو ممکن نہیں ۔ کہ خدا تعالیٰ سے بیگا نہ رہیں۔ اسی طرح اگر انھیں یہ معلوم ہو جاتے کہ فلاں خُدا کا رسول ہے اور خدا نے اس کو بھیجا ہے ۔ تو ممکن نہیں کہ نہ مانیں۔ پھر جس پر یہ روشن ہو جاتے کہ یہ خدا کا الہام ہے اور اس پر چلنے سے ہمارا ہی فائدہ ہے ۔ تو ممکن نہیں کہ بے قدری کریں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی کو دھوکہ لگے اور سمجھے کہ میں ایمان رکھتا ہوں مگر نہ ہو ۔ جیسے کسی کے متعلق کہنے کو تو کہ دیتے ہیں کہ اس سے محبت ہے مگر دراصل نہیں ہوتی اور وقت پر حقیقت کھل جاتی ہے۔ اسی طرح ایک شخص سمجھتا ہے کہ مجھ میں ایمان ہے مگر ایمان نہیں ہوتا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایمان ہوا اور عمل صالح نہ ہوں ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہوتے کہ جو واقعہ میں ایمان لاتا ہے ۔ وہ عمل صالح کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ لیکن اس سورۃ میں خدا تعالیٰ ایمان لانے کے بعد عمل صالح کرنے کی بھی ہدایت فرماتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام تو زوائد سے پاک ہوتا ہے اس لیے جب یہ فرما دیا گیا کہ امنوا - تو عمل صالح کرنا اسی میں آگیا ۔ پھر عملوا الصلحت ساتھ فرمانے کی کیا ضرورت تھی۔ جب ایمان لانے والا انسان عمل صالح کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور ایمان کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اعمال صالح کئے جائیں تو کیوں امنوا ہی نہ رکھا۔ اس میں ایک حکمت ہے۔ در حقیقت جب امنوا کا فقرہ علیحدہ اور عملوا الصالحات کا علیحدہ ہو تو اس کا وہی مفہوم ہوتا ہے جو عام لوگ سمجھتے ہیں مگر جب یہ دونوں فقر سے ملتے ہیں تو ایک اور معنی پیدا ہوتے ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ گو ایمان اور یقین کامل کے نتیجہ میں اعمالِ صالح پیدا ہوتے ہیں اور ایمان وہی ایمان ہوتا ہے جسے انسان یقینی سمجھتا ہے اور پھر اس کے مطابق عمل کرتا ہے مگر بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ چونکہ انسان کی نیست اور موقع شناسی میں نقص ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کامیابی کے حصول کا حقیقی ذریعہ نہیں ہوتا ۔ گویا اس کا عمل عمل صالح نہیں ہوتا ۔ اس لیے ضائع ہو جاتا ہے۔ تو ایمان سے یہ تو پتہ لگتا ہے کہ جو لاتا ہے۔ وہ عمل کرتا ہے ۔ مگر اس سے یہ پتہ نہیں لگتا کہ وہ عمل ان ذرائع پر کار بند ہو کر کیا جاتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا نتیجہ نکلنے کے لیے مقرر کہتے جاتے ہیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت لوگ ایمان لاتے ہیں اور پھر عمل کرتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں۔ روز سے رکھتے ہیں۔ حج کرتے ہیں۔ مگر دنیا میں ذلیل اور خوار ہی رہتے ہیں جس کی وجہ میں ہے کہ وہ ان ذرائع کی طرف