خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 110

۱۱۰ اگر کسی جانور میں ایک ایک نقص ہے تو انسان میں تمام کے تمام نقائص جمع ہو جاتے ہیں بے حیا یہ ہوتا ہے بے وفا پہ ہوتا ہے۔ اندھا تقلید کرنے والا یہ ہوتا ہے۔ احمق یہ ہوتا ہے ۔ کبھی بھیر کی طرح مقلد ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو نمازیں پڑھتا دیکھتا ہے تو خود بھی نماز پڑھنے لگتا ہے لیکن کچھ نہیں سمجھتا کہ نماز کیوں پڑھتا ہوں اور پھر لمبی نماز پڑھتا ہے کہ لوگ تعریف کریں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہونگے جو نمازیں تو بی لمبی پڑھیں گے مگر ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا۔ یہ ایسے ہی لوگوں کے متعلق آپ نے فرمایا ۔ پھر انسان نقلیں اتارتا ہے تو ایسی بھونڈی کہ دیکھ کر ہنسی آجاتی ہے ۔ مثلاً یورپ کے لوگوں کی نقل میں ٹوپی ۔ کوٹ پتلون پہنتا ہے۔ چونکہ ان لوگوں کو یہ لباس پہنتے صدیاں گزرگئیں اس لیے ان کو بُرا نہیں معلوم ہوتا۔ مگر یہ لوگ جو ان کے تقال ہوتے ہیں اور ویسا ہی بننا چاہتے ہیں۔ یہ گو دیسا ہی لباس پہن بھی لیں۔ یورپین وضع کی ٹوپی سر پر رکھیں ۔ مگر گوری رنگت کہاں سے لائیں گے۔ پھر یورپین جس طرح چلتے پھرتے ہیں۔ اس کے لیے ان کی تو چال ہی اس قسم کی ہوتی ہے۔ نہ تو انھیں تکلف کرنا پڑتا ہے۔ اور نہ وہ بڑے معلوم ہوتے ہیں میگر ان لوگوں کو ایسی چال چلنے کے لیے تصنع کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ پچھلے سائی شملہ میں دیکھنے کا اتفاق ہوا بعض لوگ جسم کو اکڑاتے اور سر کو اٹھاتے چلتے ہوتے نہایت بھونڈ سے معلوم ہوتے تھے ۔ ان لوگوں نے نقل کی نقل تو کی مگر بھونڈی اور فضول نقل کی جوان کے لیے بجائے فائدہ مند ہونے کے اور ذلیل گن ہے۔ کیونکہ انسان معزز کوٹ پتلون وہیٹ سے نہیں بن جاتا۔ اور نہ ہی یورپ کے لوگ اپنے لباس کی وجہ سے معزز ہیں ۔ بلکہ کسی اور وجہ سے ہیں ۔ ان لوگوں کو اگر ان کی نقل کرنی تھی تو ان صفات کی کرتے جن سے وہ دنیا میں معزز ہیں۔ مثلاً دنیا ہی کو وہ سب کچھ سمجھتے ہیں اور اس کے لیے کوئی بڑی سے بڑی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کرتے، لیکن اگر ان لوگوں کو کسی دور سفر پر جانے کے لیے کہا جائے ۔ تو اول تو موجودہ زمانہ میں جہاز کے سفر کے خطرے کو رستے میں روک بنائیں گے اور اگر جہانہ کا سفر نہ ہو کسی ایسی جگہ کا سفر ہو جہاں ریل نہ جاتی ہو تو ریل کے نہ ہونے کا عذر کیا جائیگا۔ پھر اگر یورپ کے لوگوں کو مذہبی طور پر بھی دیکھا جائے ۔ تو ان کی قربانیاں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔ افریقہ کے وحشیوں نے سینکڑوں مشنری عورتوں کو بھون کر کھا لیا۔ مگر ایک کے بعد دوسری فوراً چلی جاتی۔ اور عیسائیت کی اشاعت میں لگ جاتی اور اگر ایک کی ہلاکت کی خبر پہنچتی ہے۔ تو کئی درخواستیں آتی ہیں کہ ہم کو وہاں بھیجا جائے۔ چین میں اس وقت تک سات ہزار عیسائی مشنری قتل کیا گیا ہے، لیکن ایک مارا جاتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا چلا جاتا ہے۔ انکی نقل کرنے والے محض لباس اور چال میں اور حال میں نقل اُتار نے