خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 109

١٠٩ خدا تعالیٰ نے ان کے متعلق ایسا انتظام کیا تھا کہ ان کو دونوں وقت کھانا وہیں پہنچ جایا کرتا تھا۔ کچھ عرصہ کے بعدان کو یہ ابتلا پیش آیا کہ تین دن متواتر کھانا نہ ملا جب بھوک سے حالت خراب سے حالت خراب ہونے لگی تو وہ اپنی جگہ سے اُٹھے اور قریب کے گاؤں میں گئے۔ اور ایک مکان پر پہنچکر کھانے کو مانگا گھ انے کو مانگا ۔ گھر والوں نے ان کو تین روٹیاں دیں ۔ وہ روٹیاں لے کر واپس ہوتے تو گھر والوں کے دروازے پر ایک کتا بیٹھا تھا وہ ان کے ساتھ ہو لیا۔ انھوں نے اس کو آدھی روٹی ڈالدی۔ مگر وہ کھا کر پھر ساتھ چلنے لگا۔ آدھی انھوں نے اور ڈالدی۔ وہ اس آدمی کو بھی کھا کر پیچھے چلا آتا رہا۔ انھوں نے ایک اور روٹی ڈالدی اور کہا کہ واقعی بیچارا ایک روٹی سے کیا سیر ہوگا لیکن جب دو روٹیاں بھی جا چکا تو پھر بھی ان کے بچے سے نہ ہٹان اُنھوں نے غصہ میں آکر میری روٹی بھی ڈالدی۔ اور کہا کہ تو بڑا بے حیا ہے جو پیچھا ہی نہیں چھوڑتا انسان کی عادت ہے کہ جب وہ غصہ میں آتا ہے تو دیواروں اور درختوں کو بھی مخاطب کر لیا کرتا ہے ۔ تو اُنھوں نے غصہ کی حالت میں گتے کو بے حیا کیا ۔ اسپر کشفی طور پر اس کتے نے ان سے گفتگو کی اور کہا کہ بے حیائیں ہوں کہ تو خدا تجھکو ہمیشہ رزق پہنچاتا تھا۔ مگر صرف تین دن نہ پہنچا تو اُٹھ کر لوگوں خواہ ہفتوں کے دروازوں پر مانگنے چلا آیا۔ مگر میں ہوں کہ ہمیشہ اپنے آقا کے دروازے پر پڑا رہتا ہوں، خواہ ہے فاقہ میں گذر جائیں۔ کتے کی اس گفت گو سے جو کشفی طور پر ہوئی تھی ان کو اپنی کمزوری کا احساس ہو گیا۔ اس سے توبہ کی اور اپنے اس مقام پر جا بیٹھے اور خدا تعالیٰ نے پھر ان کو اسی طرح کھانا پہنچا نا شروع کر دیا ۔ تو واقعی کہتے ہیں وفاداری کی صفت ایسی ہے کہ وہ اپنے آقا کی خاطر جان بھی دید یتا ہے ۔ اور ذرا پرواہ نہیں کرنا ، مگر انسان ایسے ہوتے ہیں جو دوست وغیرہ کو مصیبت کے وقت چھوڑ دیتے ہیں۔ تو بعض انسان ایسے ہوتے ہیں جن میں گنتے جتنی بھی وفا نہیں ہوتی ۔ اسی طرح گدھے کو احمق کہا جاتا ہے اور حماقت کے لیے گدھا مشہور ہے، لیکن بعض انسان اپنی حماقت میں گدھے سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ گدھے میں اتنی تمیز ہوتی ہے کہ وہ کبھی شیر پر حملہ نہیں کرتا۔ بلکہ اس کی حس ایسی تیز ہوتی ہے کہ وہ شیر کی دور سے ہی بو سونگھ کر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن انسان جب حماقت پر آتا ہے تو کہ صرف خدا کے پہلوانوں پر حملہ کرتا ہے۔ بلکہ خدا کو بھی مقابلہ کا چیلنج دیدیا ہے گدھا احمق ہے مگر اتنا نہیں کہ خطرہ کی جگہ میں ٹھرا رہے اور شیر کی بو پاتے ہی اس کو چھوڑ نہ دے لیکن انسان ایسا احمق ہوتا ہے کہ خدا کے سپہ سالاروں کے مقابلہ میں چلا جاتا ہے ۔ پھر انسان گرتے گرتے بند ر سے بھی زیادہ نقال اور خنزیر سے بھی زیادہ ہے حیا ہو جاتا ہے