خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 84

خطبات محمود جلد (5) تین ہزار چار ہزار سال پہلے بھی ایسا ہی بناتی تھی۔ پہلے ایساہی ۸۴ مگر انسان کی حالت کبھی ایک حالت پر نہیں رہی۔ بلکہ ہر صدی میں بدلتی رہی ہے۔ کوئی زمانہ ایسا تھا کہ انسان بالکل ننگا رہتا تھا۔ پھر وہ زمانہ آیا کہ درختوں چھالوں اور پتوں سے اپنا جسم ڈھانکنے لگا۔ پھر جانوروں کی کھالوں کو پہننے لگا۔ پھر کوئی زمانہ ایسا تھا کہ درختوں کی باریک شاخوں سے پتوں میں موریاں نکالکر گھاس کے ریشے ان میں ڈال کر اپنے لئے کپڑے سینے لگا۔ پھر لوہا۔ روئی دریافت ہوئی اور کپڑے بننے اور سئیے جانے لگے۔ اس سے ترقی کرتے کرتے آج انسان اس حالت کو پہنچا ہے کہ اتنی قسم کے کپڑے تیار ہو گئے کہ کوئی گن بھی نہیں سکتا اسی طرح ایک وقت تھا جبکہ انسان کچی غذا ئیں کھاتا تھا۔ پھر سورج کی گرمی سے بھون کر کھانے لگا۔ پھر آگ دریافت ہوئی تو اس میں ڈال کر پکانے لگا اس سے ترقی کرتے کرتے آج اس حالت کو پہنچا کہ ہزاروں قسم کے نفیس سے نفیس کھانے تیار کرنے لگا۔ یہی حال پینے کی چیزوں کا ہے اور یہی سوسائٹی کے تعلقات کا ۔ غرضیکہ ہر ایک وہ کام جس کا انسان سے تعلق ہے وہ جس حالت میں آج سے سو سال پہلے تھا آج اس سے بڑھ کر حالت میں ہے۔ اور آج سے ایک سو سال بعد اور بڑھ کر ہوگا۔ یہ تونسلِ انسانی کا تغیر و تبدل ہے اسی طرح ہر انسان میں بھی تغیر ہوتا ہے۔ ایک وہ وقت ہوتا ہے جبکہ انسان بات کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ لیکن ایک وقت آتا ہے کہ خوب بول سکتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جبکہ وہ کچھ پڑھ نہیں سکتا۔ لیکن ایک وقت آتا ہے کہ وہ بڑا عالم اور فاضل ہو جاتا ہے تو جس طرح نسل انسانی مجموعی حالت میں ترقی کرتی ہے اسی طرح ہر ایک انسان بھی ترقی کرتا ہے اور ایک ادنیٰ حالت سے لے کر عظیم الشان درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔ پیدا ہونے کے وقت تمام بچوں کی ایک ہی حالت ہوتی ہے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے : ۔ کہ اے انسان تو جس وقت پیدا ہو ا تھا تو رو رہا تھا اور لوگ تجھ پر ہنس رہے تھے (کسی پر ہنسنا اسی کی تحقیر کرنے کے معنوں میں بھی آتا ہے ) اب تو ان سے بدلہ لے اور وہ اس طرح کہ ایسے اچھے اعمال کر اور لوگوں کو اتنا فائدہ پہنچا کہ جب تو مرے تو لوگ روئیں اور تو ہنسے اور خوش ہو کہ میں خدا کے پاس جا رہا ہوں ۔ لے تو سب بچے روتے ہوئے ننگ دھڑنگ آموجود ہوتے ہیں ۔ آنحضرت لے معانی الادب ۲ بحوالہ دروس الادب ص ۹۰