خطبات محمود (جلد 5) — Page 83
۸۳ 12 خطبات محمود جلد (5) دنیا کی تمام اشیاء انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہیں (فرموده ۱۴ را پریل ۱۹۱۶ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا :- وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذُلِكَ ظَنُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ أَم نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ ۔ اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوق جو ہماری نظروں کے سامنے ہے اور جس تک ہمارا علم پہنچ سکتا ہے اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تمام مخلوق میں سے ایک ہی ہستی ایسی ہے کہ جو اپنے اندر ارادہ کی قوت رکھتی ہے اور جس کے اندر اس کے استعمال کی طاقت پیدا کی گئی ہے اور وہ انسان ہے بڑے بڑے کرے جو زمین کے علاوہ آسمان پر ہیں یعنی سورج۔ چاند اور ستارے۔ پھر زمین اور اس کے اندر کی تمام اشیاء اور خاص کر حیوانات۔ ان تمام پر غور کر کے دیکھا جائے تو سوائے انسان کے سب کی سب ایک خاص قانون کے ماتحت چلتی ہیں اور اس سے ذرا بھی اِدھر اُدھر نہیں ہو سکتیں۔ جس رنگ کا جس طرز اور جس طاقت کے ساتھ خدا نے ان ں ہوئیں ۔ کو پیدا کیا تھا اسکے علاوہ نہ تو انہوں نے کسی بات میں ترقی کی ہے اور نہ ہی تنزیل ۔ بے جان چیزیں تو علیحدہ رہیں حیوانات بھی ارادہ اور قوت نہیں رکھتے اور ان میں بھی ترقی کا مادہ نہیں ہے۔ جس دن سے دنیا کی ابتداء ہوئی ہے۔ شیر غاروں میں ہی رہتے ہیں بندر درختوں کے اوپر مچھلیاں پانی کے اندر زندگی گزار رہی ہیں اسی طرح پرندے ہوا میں اُڑتے۔ درختوں پر گھونسلے بناتے چلے آرہے ہیں۔ اس میں کبھی تغیر نہیں ہوا۔ نہ آدم علیہ السلام کے وقت نہ ان کے بعد اور نہ اب ۔ بلکہ ایک ہی حالت میں چلے آرہے ہیں ۔ بیا ایک عمدہ گونسلا بناتا ہے مگر ایسا ہی حضرت آدم کے زمانہ میں بنایا کرتا تھا۔ اسی طرح فاختہ جس قسم کا آج گھونسلا بناتی ہے آج سے ہزار دو ہزار (ص: ۲۸-۲۹)