خطبات محمود (جلد 5) — Page 505
خطبات محمود جلد (5) ۵۰۴ کچھ مانگتا ہے جیسے مثلاً فقیر ہوتے ہیں جب وہ کسی سے مانگتے ہیں تو معمولی معمولی آدمیوں کو بھی بڑی سرکار بڑی سرکا ر کہا کرتے ہیں تو اس تعریف سے ان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ پہلے کسی کی مدح کرتے ہیں اور بعد میں کچھ مانگتے ہیں اور مدح جھوٹی بھی ہو سکتی ہے۔ مگر حمد ہمیشہ سچی ہی ہوا کرتی ہے۔ توحمد کی ایک وجہ طلب نعمت ہے جو اس طرح کی جاتی ہے کہ سوال سے پہلے اس شخص کی جس سے کچھ مانگنا ہو تعریف کی جاتی ہے اور دوسرے اس وقت جب کوئی نعمت مل جاتی ہے تو اس نعمت کے شکریہ کے طور پر حمد کی جاتی ہے۔ یہی وجوہات یہاں بھی ہیں ۔ کہا کہ اللہ کیلئے تمام حمد ہے۔ اللہ کون ہے جس کیلئے تمام حمد ہے وہ اللہ رب العالمین ہے یہ صفت تمام حمد کو اللہ ہی کے لئے ہونے کی وجہ بتاتی ہے۔ ورنہ بعض حصوں میں تو غیر بھی شامل ہو سکتے ہیں ۔ مگر تمام محمد میں کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ انسان خدا کی حمد کرتا ہے اس سے کچھ مانگتا ہے اور اس سے کچھ عرض کرتا ہے کہ حضور تو تمام جہانوں کے رب ہیں کوئی نہیں جس کی آپ ربوبیت نہ فرماتے ہوں اس سوال کو پورا کرنے کے لئے یہ دلیل دی گئی ہے کہ لوگ جب کسی دوسرے کے گھر پر مانگنے جاتے ہیں تو وہ آگے سے کہہ دیتا ہے کہ بابا اگلے گھر جاؤ میرے پاس نہیں ۔ مگر جب کوئی خدا کے حضور جاتا ہے اور عرض کرتا ہے کہ حضور کے دروازے پر مانگنے آیا ہوں۔ اور ساتھ یہ بھی اشارہ کرتا ہے کہ میں اور کس کے دروازہ پر جاؤں ۔ رب العلمین تو ہوئے آپ۔ آپ کے بعد کہاں انسان کا ٹھکانہ ہے۔ انسان الحمد للہ رب العلمین کہہ کر ظاہر کرتا ہے کہ میں حضور کے سواکس کے پاس مانگنے جاؤں مجھے تو کوئی نہیں معلوم ہوتا جو آپ کے سوا مجھے کچھ دے سکے۔ صفات کے اظہار سے غرض یہ ہوتی ہے کہ ان کے ذریعہ انسان جو کچھ بھی طلب کرنا چاہتا ہے کرتا ہے پس صفت رب العالمین متوجہ کرتی ہے کہ وہ ہی چونکہ در حقیقت تمام جہانوں کا رب ہے اس لئے تمام حمدوں کا وہی مالک ہے اور اسلئے وہی ہے جس سے مدد مانگنی چاہئیے کیونکہ خدا خود یہی فرماتا ہے تو پھر بندہ اور کہاں جا سکتا ہے اسلئے طلب نعمت کیلئے اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ صفت رب العالمین لگائی گئی ہے مطلب یہ کہ خدا یا جب سب کی ربوبیت تیرے ہی ذمہ ہے تو ہم کہاں جاسکتے ہیں ۔