خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 504

۵۰۳ 65 خطبات محمود جلد (5) کلمہ الحمد للہ ہم سے کیا چاہتا ہے (فرموده ۶ جولائی ۱۹۱۷ء) حضور نے سورۃ فاتحہ تلاوت فرمانے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ فاتحہ میں مسلمانوں کو متوجہ فرماتا ہے کہ ان کی کامل خوشی اسی وقت ہوگی اور ہونی چاہئیے جبکہ تمام جہان میں وہ صداقت پھیل جائے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت خدا نے بھیجی ہے۔ فرمایا۔ کہ الحمد للہ اب مومنوں کو اس میں دعا سکھائی کہ کہو الحمد للہ ۔ اس کی دلیل بھی ساتھ ہی دے دی کہ کیوں اللہ کی حمد کی جائے اور کیوں وہ ہی تمام حمدوں کا مستحق ہے فرمایا کہ وہ چونکہ رب العلمین ہے تمام جہانوں کا رب ہے تو اس سے بڑھ کر کون حمد کا مستحق ہو سکتا ہے۔ اگر ہر ایک جہان کا الگ الگ ربّ ہو تب تو بے شک کہا جا سکتا ہے کہ یہ فقرہ درست نہیں ۔ مگر جب تمام جہانوں کی وہی ربوبیت فرماتا ہے تو پھر کون اس کے سواحمد کا مستحق ہے۔ پس الحمد للہ کہنے کی وجہ بیان فرمائی کہ کیوں اس کی حمد کی جائے ۔ اس لئے کہ وہی حمد کا مستحق ہے۔ پھر اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کے لئے حد تو ہے ہی مگر اس کے اظہار کی کیا ضرورت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حمد کے ہمیشہ دو مواقع ہوتے ہیں یعنی دوا غرض کیلئے کسی کی حمد کی جاتی ہے۔ ا (1) کرناہو (1) حمد اس وقت کی جاتی ہے جب کسی کا شکریہ ادا کرنا ہو (۲) دوسرے اس وقت جب کسی سے طلب نعمت مقصود ہو۔ کوئی کسی کی تعریف کیوں کرتا ہے یا تو اس کا مرہونِ احسان ہے یا اس سے