خطبات محمود (جلد 3) — Page 410
خطبات محمود ۱۰ ۱۰۲ جلد سوم - ١٩ اپریل مستقبل سنوارنے کی کوشش کرو فرموده ۱۹ اپریل ۱۹۳۷ء) ۱۹۳۷ء کو بعد نماز مغرب حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے المسیح الثانی نے مسجد مبارک میں محمد عبد السلام صاحب بی اے پر مولوی محمد عبدالسبحان صاحب انسپکٹر (بنگال) کا نکاح مسلمہ خاتون بنت خان بهادر چوہدری ابوالہاشم خان صاحب ریٹائرڈ انسپکٹر آف سکولز سے ایک ہزار روپیہ مہر پر پڑھا ہے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : انسانی اعمال کے لیے حصے دو ہی ہوتے ہیں ایک اس کا ماضی اور ایک مستقبل - حال ایک ایسی خیالی چیز کا نام ہے جس کی تعیین کرنا انسانی طاقت کے لئے بالکل ناممکن ہے ۔ مثلاً جب ایک شخص کہتا ہے کہ میں یہ کام کر رہا ہوں تو جس وقت اس کا یہ فقرہ ختم ہوتا ہے اور نحویوں کے نزدیک اس کے کچھ معنے بنتے ہیں اس وقت اس فقرے کا مفہوم بے معنی ہو چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ گو یہ فقرہ کہ میں کام میں کام کر رہا ہوں حال پر دلالت کرتا ہے لیکن وہ ” ہوں" کے نون کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ماضی ہو چکا ہوتا ہے۔ پس جب اس شخص کا کلام با معنی بنتا ہے اس کا مفہوم بے معنے ہو جاتا ہے گویا حال بالکل ایک غیر متعین شے ہے جو چیز انسان کے ساتھ تعلق رکھتی ہے وہ اس کا ماضی اور مستقبل ہے مگر ماضی وہ ہے جو اس کے ہاتھ سے نکل گیا اور اس کی درستی اس کے اختیار میں نہیں ۔ حال کی کوئی تعیین نہیں کہ اس پر قبضہ کیا جاسکے ۔ گویا ماضی وہ پرندہ ہے جو اڑ چکا ہے اسے پکڑا نہیں جا سکتا اور حال ایک ایسا ہوائی قلعہ ہے جس پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔