خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 409

خطبات محمود ٠٩ L جلد سوم میں سے بعض اس زمانہ میں نظر آتی ہیں پس کیوں نہ علماء امت میں سے ایک شخص کے متعلق کہا جائے کہ وہی مثیل مسیح ہے تو سب علماء اس پر کہتے کہ یہ بالکل درست ہے اور آپ سے زیادہ مستحق اس دعوی کا کوئی نہیں ہو سکتا اس کے بعد آپ دعوی کر دیتے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات سن کر فرمایا کہ بے شک اگر انسانی منصوبہ ہو تا تو میں ایسا ہی کرتا۔ میں جواب میرا ہے۔ ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مسئلہ میرا بنایا ہوا نہیں۔ میں تو ایک کمزور اور گنہگار وجود ہوں میں زندہ رہوں یا مروں، عزت پاؤں یا ذلت، بڑھوں یا گھٹوں یہ مسائل جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا حصہ ہیں انہیں کوئی ضعف نہیں پہنچ سکتا۔ ان کی ترقی انسانوں کے ہاتھوں سے نہیں خدا تعالی کے ہاتھوں سے ہے۔ پس نہ ان کو میری وجہ سے تقویت ملی ہے اور نہ میرے چھوڑ دینے کی وجہ سے یہ مٹ سکتے ہیں۔ اگر میں ان مسائل کو مٹانا چاہوں تو العیاذ باللہ میں مٹ جاؤں گا یہ مسائل نہیں مٹیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل ہے کہ اس بارہ میں اس نے مجھ سے خدمت لے لی ہے اور اس کے فضل سے امید رکھتے ہوئے میں اس سے طالب ہوں کہ مجھے حق پر قائم رکھے اور باطل کی حمایت سے بچائے کہ یہ اس کے فضل کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ غرض اجتماع اچھی شئے ہے مگر وہی جو خدا کے لئے ہو اور جس اجتماع میں خدا تعالٰی چھوٹے وہ اجتماع با برکت نہیں۔ ہم بھی غیر مبالغین سے اجتماع چاہتے ہیں لیکن ایسا ہی جس میں خدا تعالیٰ کے دین کی عزت ہو ۔ جب ایک مرد اور ایک عورت کے اجتماع میں رسول کریم نے تقوی پر اس قدر زور دیا ہے۔ تو قوموں کے اجتماع کے سوال میں اس امر کو کس طرح نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۳۷ء صفحه ۳ تا ۶) ل الفضل سے تاریخ اور فریقین کا تعین نہیں ہو سکا۔ ه بخاری کتاب المغازی باب و قد بنى حنيفة وحديث ثمامة بن اثال ه ال عمران : 111 ه سیرت ابن ہشام جلد ا صفحه ۲۸۵٬۲۸۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء شه البقرة : ٨٢ التحريم : ٢