خطبات محمود (جلد 3) — Page 12
خطبات محمود ۱۲ تعدد ازدواج مستحسن امر ہے ( فرموده ۲۷- جون ۱۹۱۵ء) کا منشی فرزند علی صاحب فیروز پور کا دوسرا نکاح بھائی شیخ عبدالرحیم صاحب کی لڑکی سے ایک ہزار روپیہ مصر پر پڑھا۔ خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ عام مسلمانوں نے جو اپنے طرز عمل سے کثرتِ ازدواج کو بد نام کر رکھا ہے وہ بر خلاف اس کے اپنے عدل و حسن سلوک سے یہ ثابت کرنے کی بر اپنے کوشش کریں کہ دو بیویاں کرنا بالکل ممکن العمل اور مستحسن امر ہے۔ جن مسلمانوں کی بد سلوکی دو کرنا اله نے عورتوں کو اس مفید و واجبی اجازت سے بدظن کر رکھا ہے حتی کہ مردوں کی ایسی ہی کمزوریاں اور نا انصافیاں بعض جاہل و بے دین عورتوں کے ارتداد تک کا موجب بن جاتی ہیں انہیں خدا کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا کہ ان کی غلط کاری سے دین حق کو ضعف پہنچا اور اس کے پاک نام پر حرف آیا۔ الفضل ۲۹ جون صدا و یکم جولائی صدا (۱۹۱۵ء)