خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 158

خطبات محمود ۱۵۸ جلد سوم طرح ہوئی اور دنیا کس طرح چلی اور اس کے آگے کیا نتائج پیدا ہوئے اور ان سے کیسے دکھ سکھ پیدا ہوئے۔ پہلوں پر نظر کرو کس طرح ایک جوڑے سے ہزاروں آدمی پیدا ہوئے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مصائب اور مشکلات ہوتی ہیں مگر ان سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اس آیت سے نکاح کی ضرورت معلوم ہوئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض نکاح اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ ان کی نسل سے دنیا پر ہو جاتی ہے جیسا کہ نفس واحدہ سے اس قدر دنیا میں آدمی پھیل گئے۔ پچھلے زمانہ پر غور کرنے سے تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپس کے تعلقات ترقیات میں مد ہوتے ہیں۔ ہم نہ ہوتے اگر رشتہ داریاں نہ ہوئیں، انسان بیمار ہوتا ہے بیوی سردی گرمی کا خیال رکھتی ہے اور اس کے موافق لباس وغیرہ کا انتظام کرتی ہے اور مناسب وقت پر غذا اور دوائی دیتی ہے اگر بیویاں نہ ہوں تو کئی انسان بیماری کی حالت میں گرمی یا سردی سے مرجائیں اور ان کو کوئی پانی دینے والا نہ ہو ۔ پھر بچے پیدا ہوتے ہیں اگر ماں باپ نہ ہوں تو وہ چلاتے چلاتے مرجائیں۔ پھر کہیں بہن بھائی اور دوست ہوتے ہیں جو بیماری میں انسان کے کام آتے ہیں اور دوست بھی قرابت داری میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر یہ تعلقات نہ ہوتے تو انسان کا کیا انجام ہوتا۔ کئی لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس کھانے کے لئے ایک دانہ نہیں ہوتا مگر ان کے رشتہ دار ان کی مدد کرتے ہیں پس ہزاروں خاندان ہیں جو قرابت کی مدد سے بچے ہوئے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ موجودہ دنیا رشتہ داری کا نتیجہ ہے۔ پہلوں نے درخت لگائے ہم اس کا پھل کھا رہے ہیں اور ہم درخت لگا ئیں گے تو اس سے آئندہ نسلیں پھل کھائیں گی۔ مشہور ہے کہ ایک بوڑھا زمیندار ایک درخت لگا رہا تھا ۔ بادشاہ پاس سے گزرا اور اس سے پوچھا کہ تم یہ درخت کیوں لگاتے ہو تمہیں اس سے کیا فائدہ یہ تو دیر میں پھل دے گا اور اس وقت تم نہ ہوگے۔ زمیندار نے کہا بادشاہ سلامت پہلوں نے درخت لگائے ان کے پھل ہم کھا رہے ہیں ہم لگائیں گے ان کے پھل ہماری آئندہ نسلیں کھائیں گی۔ اس پر بادشاہ ۔ اس پر بادشاہ نے ”زہ" کہا۔ جس کا یہ مطلب تھا کہ اسے یہ بات پسند آئی ہے اور اس پر انعام دیا جائے۔ خزانچی نے چار ہزار درہم کی تھیلی انعام دی۔ زمیندار نے کہا بادشاہ سلامت دیکھئے میں ابھی درخت لگا ہی رہا ہوں کہ اس نے مجھے پھل دے دیا۔ بادشاہ نے پھر زہ کیا اور خزانچی نے چار ہزار درہم اور در رور ہم اور دے دیئے۔ پھر اس نے کہا بادشاہ نے کہا بادشاہ سلامت لوگوں کے درخت تو سال میں ایک بار پھل دیتے ہیں مگر میرے درخت نے تھوڑی دیر میں دو دفعہ