خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 157

خطبات محمود ۱۵۷ ۴۸ جلد - ،ماضی، حال اور مستبقل سے نکاح کا تعلق ہے ۔ فرموده ۲۹- جولائی ۱۹۲۲ء) له -: ی خطبہ مسنونہ پڑھنے ھنے کے بعد حضرت خلیفہ ا المسیح الثانی نے فرمایا ہر ایک امرجو دنیا میں ہوتا ہے اس کا تین زمانوں سے تعلق ہوتا ہے۔ اول ماضی ہے دوم حال ہے سوم استقبال ہے ۔ جو کام بھی ہو گا وہ کسی پچھلے کام کا نتیجہ ہو گا اور اب بھی اس کا کچھ اثر ہو گا۔ اور آئندہ بھی اس کا نتیجہ ملے گا۔ تمام کاموں میں سے زیادہ اہم نکاح کا معاملہ ہے جس کا تینوں زمانوں سے تعلق ہے اس لئے کہ اس میں تینوں زمانوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ماضی کی طرف تو اس آیت میں توجہ دلائی ہے کہ آيَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ل یہ ماضی بھی اتنا لمبا کہ فرمایا آدم کے وقت سے نظر ڈالو اور اس وقت سے غور کرتے کرتے اپنے زمانہ تک پہنچو۔ اس کے بعد حال کی طرف اس آیت میں توجہ دلائی - آیا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا - اللهَ وَقُولُوا ولُوا قَوْلًا سَدِيدًا، يُصْلِحُ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ، وَمَنْ يُطِعِ الله وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا سے تمہارا حال یہ ہو کہ تم قول سدید کہو ۔ پھر استقبال کی طرف اس آیت میں توجہ دلائی آیا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلَتَنْظُرُ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ ، إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُودَہ کے خطبہ نکاح میں یہ تینوں آیتیں پڑھی جاتی ہیں۔ اور تینوں آیتوں کا تینوں زمانوں سے تعلق ہے ایک میں بتایا کہ تمہاری ابتداء کس