خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 150

خطبات محمود ۱۵۰ ۴۶ نکاح کے فوائد (فرموده ۲۶- اپریل ۱۹۲۲ء) تاریخ ۲۶۔ اپریل ۱۹۲۲ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے عطاء اللہ ولد مو مولوی محمد عبد الله صاحب احمدی ملازم شهر مردان کا نکاح فاطمہ بنت فضل دین صاحب احمدی سب او در میئر ملٹری در کس ضلع پشاور سے ایک سو روپیہ مہر پر پڑھا۔ لے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا : انسانی تعلقات کی بنیاد نکاح پر ہی ہوتی ہے۔ جس قدر رشتے ہیں ان کا سبب نکاح ہے۔ ماں باپ، میاں بیوی نکاح کا نتیجہ ہیں۔ چچا، پھر بھی ، خالو یہ نکاح کا نتیجہ ہیں۔ ساس خسر بھی نکاح کے بعد ہوتے ہیں۔ غرض کوئی رشتہ نہیں جو بغیر نکاح کے ہو ۔ بظاہر تو یہ بات ہے کہ نکاح والے رشتے چند ہوتے ہیں ورنہ اصل میں نکاح مرکزی نقطہ ہے جس کے گرد تمام چیزیں گھومتی ہیں بڑا تعلق محبت کا ہے اور وہ رشتہ سے تعلق رکھتی ہے اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ اگر دنیا رہنے کے قابل ہے تو نکاح ہی کی بدولت اور اگر دنیا کا کارخانہ چلتا ہے تو نکاح پر چلتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نکاح کوئی معمولی بات نہیں بلکہ دنیا نکاح کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔ تمام خواہشات میں بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ رشتہ داروں کو سکھ پہنچایا جائے۔ اگر عزت کی خواہش ہے۔ مال اور دولت اور رتبہ کی خواہش ہے وہ سب رشتہ داروں کے لئے۔ اگر کسی کے اولاد نہ ہو تو وہ غمگین ہے۔ تمام عزتیں اور دولتیں بیچ ہیں ۔ گویا جس طرح روحانی زندگی کا محور خدا تعالٰی کی ذات ہے اسی طرح دنیاوی زندگی کا محور نکاح ہے۔ راحت اس میں ہے، عزت اس کے لئے جلد سوم