خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 132

خطبات محمود ۱۳۲ ۴۰ جلد سوم تعلقات میں ترقی یا بگاڑ کا موجب رقابت ہوتی ہے (فرموده ۱۲ جنوری ۱۹۲۲ء) خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے فرمایا : اے انسانی تعلقات میں بگاڑ دو باتوں سے ہوتا ہے اور یہ دونوں باتیں ایک لفظ سے تعلق رکھتی ہیں جو رقیب کا لفظ ہے۔ تمام تعلقات میں ترقی یا بگاڑ کا موجب رقابت ہوتی ہے ۔ انسان کا یہ خیال کہ دوسرا میرے اندرونے پر نظر ڈال رہا ہے یا خود اس کا اس بات کی طرف توجہ کرنا کہ دوسرے کے عیب معلوم کرے اس سے بگاڑ ہوتا ہے۔ رقابت کا خیال ہی خرابیاں پیدا کرتا ہے یا اصلاح کرتا ہے۔ خدا تعالٰی بھی رقیب ہے ۔ انسان کی حالت کو جانتا ہے ۔ اگرچہ اس کا علم کسی نہیں بلکہ ذاتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسا آئینہ کہ جو کچھ اس کے سامنے ہوتا ہے اس کا عکس اس پر پڑتا ہے۔ خدا تعالی کو کسی چیز کے جاننے کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں کیونکہ خدا کا علم ازل سے ہے اور بغیر ارادہ کے ہے اس کے لئے خدا کو تجس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بندے کو تجسس کی ضرورت ہے۔ میاں بیوی میں بھی اسی رقابت کے باعث جھگڑا ہوتا ہے وہ ایک دوسرے کے افعال کی کرید میں لگ جاتے ہیں۔ انسانوں سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں ۔ جب تجسس ہو گا تو دوسرے کو مجرم ٹھرایا جائے گا اور فساد بھی ہو گا اور ایک دوسرے کو آپس میں اعتبار نہ ہوگا اور جب اعتبار نہ رہا تو محبت نہ رہے گی۔ رقابت مفید بھی ہو سکتی ہے۔ یہ خیال کہ غیر دیکھ رہا ہے اصلاح کا موجب بھی ہوتا ہے اور جب عیب دور ہو جائے تو محبت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہ معلوم اور یقین ہو کہ لوگ میرے