خطبات محمود (جلد 3) — Page 131
خطبات محمود ۱۳۱ ۳۹ جلد سوم مومن وقت سے پہلے سوچتا ہے ا فرموده ۷ ۔ جنوری ۱۹۲۲ء) ے۔ جنوری ۱۹۲۲ ء بعد نماز عصر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم کے فرزند ثالث شیخ یوسف علی صاحب کا نکاح نواب بی بی بنت میاں غلام حیدر صاحب سے پڑھا۔ خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : زت ہے الراس خطبات نکاح کی جو غرض ہے اور جس طرف جانبین کو توجہ دلانا منظور ہوتی ہے اس کے متعلق ہمیشہ بیان کیا جاتا ہے خلاصہ اس کا یہی ہے کہ تقویٰ اللہ سے کام لینا چاہئے اور زندگی کی حقیقت کو سمجھنا چاہئے۔ زندگی چار روزہ ہے آخر مرنا ہے اس بات کو نہ بھولنا چاہئے کہ دنیا مزرعہ آخرت ہے۔ اگر اس بات کو سمجھ لیا جائے تو سب جھگڑے مٹ جاتے ہیں لوگ آپس میں جھگڑتے ہیں لیکن کوئی مر جائے تو کہتے ہیں، افوہ چار دن کی زندگی کے لئے کیا لڑائی کرنی تھی۔ لئے اگر کسی کا حق کسی کے ذمہ ہو تو موت کے وقت وہ کہتا ہے کہ کیا اسی دن کے لئے میں نے کسی کا حق رکھا تھا۔ پس مومن اور غیر مومن میں اتنا ہی فرق ہے کہ مومن کل سے پہلے سوچے اور تھا۔ پس تو غیر مومن بعد میں سوچتا ہے۔ گویا مومن اور غیر مومن کے سوچنے میں چند ساعت، چند گھنٹے اور چند دن کا فرق ہوتا ہے۔ مومن آنے والے وقت سے پہلے سوچتا ہے اور غیر مؤمن بعد میں کہتا ہے کہ اگر یوں ہوتا تو یوں ہوتا۔ میرے گلے میں چونکہ تکلیف ہے اس لئے میں نے خلاصتہ بتا دیا ہے کہ مؤمن اور غیر مومن میں کیا فرق ہے اس لئے چاہئے کہ ہر ایک معاملہ میں پہلے سے غور کر لیا جائے۔ الفضل ۹ - مارچ ۱۹۲۲ء صفحہ ۷)