خطبات محمود (جلد 39) — Page 63
1958ء 63 خطبات محمود جلد نمبر 39 چار پائی پر بیٹھوں اور وہ نیچے ہو۔ اب گجا وہ زمانہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کے طفیل وہ روٹی کھاتی تھیں اور جن کے طفیل ہمیں برکت ملی اُن کو تو وہ کال کہتی تھیں اور مجھے کو کو اور کجا ایسا وقت آیا کہ مجھے دیکھ کر انہوں نے اپنی ٹانگیں چار پائی سے نیچے سرکا لیں اور قریب بیٹھنے والوں کو کہا مجھے نیچے اُتار دو محمود نیچے بیٹھا ہے اور مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ وہ زمین پر بیٹھا ہو اور میں چار پائی پر لیٹی ہوں حالانکہ اُن کی حالت اُس وقت بہت نازک تھی ۔ یہ اللہ تعالیٰ نے وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْاهَالِي کا ایک روحانی نظارہ دکھایا کیونکہ مِطْعَام صرف دنیوی ہی نہیں ہوتا بلکہ روحانی بھی ہوتا ہے۔ جسمانی طور پر تو وہ پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جائیداد کی آمد کھا رہی تھیں لیکن روحانی نقطہ نگاہ سے اس کے یہ معنے تھے کہ وہی لوگ جو مجھ کو صدقہ وخیرات کے طور پر روٹی دیتے تھے ایک دن ایسا آئے گا کہ میں ان کو روحانی غذاد دینے والا بن جاؤں گا۔ چنانچہ وہ احمدی ہو گئیں اور بعد میں اپنی زندگی بڑے اخلاص سے گزاری۔ اسی طرح مرزا سلطان احمد صاحب کو بھی اللہ تعالیٰ نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی ۔ مرز ا سلطان احمد صاحب کے آخری عمر میں ہاتھ پاؤں رہ گئے تھے اور وہ اتنے کمزور ہو گئے تھے کہ اُن کے پاؤں آسانی سے حرکت نہیں کر سکتے تھے۔ ایک دن انہوں نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے ہاتھ مجھے پیغام بھیجا کہ میں تو چل نہیں سکتا ، آپ کسی وقت آ کر میری بیعت لے لیں۔ چنانچہ میں اُسی دن اُن کے پاس چلا گیا اور اُن کی بیعت لے لی۔ ڈاکٹر صاحب ساتھ تھے۔ میں اُن کی چار پائی کے قریب ہی ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور مرز اسلطان احمد صاحب نے اپنا ہاتھ بیعت کے لیے آگے بڑھا دیا اور اسی طرح کرسی پر بیٹھے ہوئے میں نے اُن کی بیعت لے لی۔ گویا ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بھائی کی بیوہ نے جو آپ کی مخالف تھیں آپ کے بیٹے کے ہاتھ پر بیعت کی اور دوسری طرف مرزا سلطان احمد صاحب نے جو میرے بڑے بھائی تھے، میری بیعت کی۔ پہلے وہ شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب سے کہا کرتے تھے کہ بڑے مرزا صاحب زندہ ہوتے تو میں اُن کی بیعت کر لیتا۔ میں نے اُن سے تو بگاڑ رکھا اب میں اپنے چھوٹے بھائی کی کس طرح بیعت کروں ۔ شیخ صاحب نے اُن کو سمجھایا کہ یہ تو آپ کی اور زیادہ عزت بڑھائے گا ۔ چنانچہ آخری