خطبات محمود (جلد 39) — Page 62
1958ء 62 خطبات محمود جلد نمبر 39 آج سینکڑوں خاندان خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے ذریعہ سے پل رہے ہیں ۔ در حقیقت اس میں بھی وہی تو کل کام کر رہا تھا جو آپ کو خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا۔ وہ جس کو آپ نے اپنی ساری جائیدا دے دی وہ تو آپ سے اتنا بغض رکھتی تھیں کہ اپنے بچے کھچے ٹکڑے آپ کو کھا۔ کے طور پر دیتی تھیں مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو اتنا دیا کہ سینکڑوں خاندان آپ کے ذریعہ پلنے لگ گئے۔ مجھے یاد ہے ہماری تائی صاحبہ کو کسی زمانہ میں اتنا بغض تھا کہ ہمارے مکان پر جو سیڑھیاں چڑھتی تھیں وہ اُن کے مکان کی دیوار کے پاس سے گزرتی تھیں۔ چونکہ گھروں میں آپس کی ملاقاتیں بند تھیں اس لیے ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے دشمن ہیں۔ جب میں نے سیڑھیوں پر چڑھنا تو انہوں نے آواز دینی محمود! ادھر آ گل سن میری یعنی محمود ادھر آؤ اور میری بات سنو۔ میں نے بھا گناہ بچپن کی وجہ سے میں نے ڈرنا کہ خبر نہیں یہ مجھے کیا سزا دیں گی۔ اس پر انہوں نے پیچھے سے کہنا جیہو جیہا کال او ہو جیہی کوکو یعنی جیسا اس کا باپ کو اہے ویسا ہی یہ اس کا لڑکا کوکو ہے۔ مگر خدا کی قدرت دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام تھا کہ وو تائی آئی 7 جس کے معنے یہ تھے کہ وہ ایسے زمانہ میں احمدی ہوں گی جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نائب اور قائمقام ان کے خاوند کا بھتیجا ہوگا۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی بیوی تھیں اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لڑکا ہوں جو مرزا غلام قادر صاحب کے چھوٹے بھائی تھے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ تائی صاحبہ نے اپنی عمر کے آخری زمانہ میں (یعنی 1921ء میں ) میری بیعت کر لی اور بیعت کے بعد اُن میں اس قدرا خلاص پیدا ہوا کہ جب وہ (دسمبر 1927ء میں ) بیمار ہوئیں اور مجھے خبر پہنچی کہ وہ تین چار دن سے بیہوش پڑی ہیں تو میں اُن کی تیمارداری کے لیے گیا۔ فرش پر دری بچھی ہوئی تھی۔ میں اُن کی چار پائی کے پاس اُس دری پر بیٹھ گیا۔ اُن کی آنکھ کھلی تو انہوں نے مجھے دیکھا۔ وہ بیماری کی وجہ سے بہت زیادہ کمزور تھیں لیکن مجھے دیکھ کر لیٹے لیٹے انہوں نے اپنی ٹانگیں چار پائی سے نیچے سرکا لیں اور پاس والی عورتوں سے کہا مجھے چار پائی سے نیچے اُتار دو محمود نیچے زمین پر بیٹھا ہوا ہے اور میں یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ میں اوپر