خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 21

1958ء 21 خطبات محمود جلد نمبر 39 پر کام کر سکتے ہوں وہ اپنے آپ کو آنریری سیکرٹری بنالیں اور شہر میں یا باہر جہاں کہیں جائیں وہاں احمد یوں سے مل کر یا غیر جو اثر قبول کریں اُن سے مل کر زیادہ سے زیادہ چندہ لینے کی کوشش کریں تاکہ ہما را چندہ جلدی جلدی بارہ لاکھ تک پہنچ جائے۔ اسی طرح نو جوانوں کو وقف زندگی کی تحریک کریں۔ یہ ایسا چھوٹا وقف ہے کہ پرائمری تک کے آدمی کو بھی ہم لے لیتے ہیں ۔ ہم جو مرکز بنائیں گے اور پھر اسے قائم کریں گے وہاں ہم ایک زیادہ تعلیم یافتہ شخص رکھ لیں گے اور اُس کے ساتھ پرائمری پاس شخص کو لگا دیں گے۔ اور تعلیم اردو میں دیں گے۔ اردو زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کئی کتا بیں ہیں۔ مثلاً در مشین ہے، تحفہ گولڑوی ہے، سرمہ چیشم آر یہ ہے، براہین احمدیہ حصہ پنجم ہے، ازالہ اوہام ہے، فتح اسلام ہے وہ یہ کتابیں اُن کو پڑھائیں گے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ اِن کتابوں کو پڑھ لیتے ہیں وہ بڑے سے بڑے مولویوں کے اعتراضات کے ایسے جواب دے سکتے ہیں کہ وہ بول نہیں سکتے ۔ اسی طرح ہم تفسیر صغیر پڑھائیں گے۔ پھر جب کچھ قابلیت بڑھ جائے تو وہ سیر روحانی پڑھیں ، احمدیت، دعوۃ الامیر تحفۃ الملوک اور تحفہ شہزادہ ویلز پڑھیں ۔ ان ساری کتابوں کو پڑھ لیا جائے تو عیسائیوں کا اور مسلمانوں میں سے غلط رستہ پر چلنے والے مولویوں کے اعتراضات کا بڑی عمدگی سے ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح دیبا چہ تفسیر القرآن ہے۔ اس کے متعلق تمام مبلغ لکھتے ہیں کہ اس کو ہم ہر وقت ساتھ رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہم ہر علمی مجلس میں غالب آتے ہیں۔ ان سب کتابوں کو غور سے پڑھ لیا جائے تو بڑی علمی قابلیت پیدا ہو سکتی ہے۔ اب تو یہاں پادری زیادہ تعداد میں نہیں۔ زیادہ تر اپنے ممالک کو واپس چلے گئے ہیں۔ تھوڑے سے پادری موجود ہیں جن کے لیے ان کتابوں سے بہت حد تک علم سیکھا جا سکتا ہے۔ یا ہندوستان جانے کا موقع ملے تو وہاں پنڈت موجود ہیں اُن کے لیے سرمہ چشم آریہ اور چشمہ معرفت وغیرہ کتابیں ہیں وہ پڑھ لی جائیں تو انسان ان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ باقی لوگوں کے لیے ہندوستان اور پاکستان میں دوسری کتابیں زیادہ مفید ہیں جیسے ازالہ اوہام ہے، توضیح مرام ہے، فتح اسلام ہے، تحفہ گولڑویہ ہے یہ اردو میں پڑھ لی جائیں تو تمام مولویوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ یا سرمہ چشم آریہ اور چشمہ معرفت کے ذریعہ ہندوستان میں جا کر پنڈتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے بعض کتابوں کا گورمکھی میں ترجمہ کر دیا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ ان کتابوں کے متعلق سکھوں اور ہندوؤں کے بڑی کثرت سے خطوط آتے ہیں کہ ہم نے ان کو