خطبات محمود (جلد 39) — Page 20
1958ء 20 خطبات محمود جلد نمبر 39 اللہ تعالیٰ ایسا تو نہیں کہ پچھتر سال تک ایک قوم کو گالیاں دلوائے، ماریں کھلائے ، پتھر مروائے اور پھر چپ کر کے بیٹھا رہے۔ اب میں سمجھتا ہوں بلکہ مجھے یقین ہے کہ وہ وقت آگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد آسمان سے اُترے گی اور گوساری دنیا میں احمدیت پھیل جانے میں ابھی دو سو سال باقی ہیں لیکن ساری دنیا میں پھیلنے کے تو یہ معنے ہیں کہ امریکہ میں بھی پھیل جائے ، انڈونیشیا میں بھی پھیل جائے ، کینیڈا میں بھی پھیل جائے ، چین میں بھی پھیل جائے ، اٹلی میں بھی پھیل جائے ، جرمنی اور فرانس میں بھی پھیل جائے ۔ ایسا بھی ایک دن ضرور ہو گا لیکن ابھی ہمیں صرف اپنے ملک میں پھیلنے کی ضرورت ہے اور اتنی ترقی میں سمجھتا ہوں کہ اسی سال کے اندر اندر ہو جانی چاہیے اور اس میں اب صرف چند سال باقی ہیں۔ پ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے 1882ء میں دعوی کیا اور 1908ء میں آپ فوت ہوئے ۔ یہ چھبیس سال کا عرصہ ہو گیا ۔ چھبیس سال کے بعد پھر پچاس سال اب تک کے ملائے جائیں تو چھہتر سال بن جاتے ہیں۔ اور اگر ہم یہ عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش سے لیں تو 1835ء میں آپ پیدا ہوئے ا ا ہوئے اور 1935ء میں آپ پر سو سال ہو گئے ۔ ہمارا فرض تھا کہ 1935ء میں ہم ایک بہت بڑی جو بلی مناتے لیکن ہماری جماعت نے 1939ء میں خلافت جو بلی تو منائی لیکن 1935 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صد سالہ جو بلی بُھول گئی۔ اب بھی وقت ہے کہ جماعت اس طرف توجہ کرے۔ سو سال کی جو بلی بڑی جو بلی ہوتی ہے۔ جب جماعت کو وہ دن دیکھنے کا موقع ملے تو اس کا فرض ہے کہ وہ یہ جو بلی منائے ۔ اب تک انہوں نے چھہتر سال کا عرصہ دیکھا ہے اور چوبیس سال کے بعد سو سال کا زمانہ پورا ہو جائے گا۔ اُس وقت جماعت کا فرض ہوگا کہ ایک عظیم الشان جو بلی منائے ۔ اس سو سال کے عرصہ میں سارے پاکستان کو خواہ وہ مغربی ہو یا مشرقی ہم نے احمدی بنانا ہے۔ اس کے بعد جو لوگ زندہ رہیں گے وہ اِنْشَاءَ اللہ وہ دن بھی دیکھ لیں گے جب ساری دنیا میں احمدی ہی احمدی ہوں گے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو اس جماعت سے باہر ہیں وہ رفتہ رفتہ اس قدر کم ہو جائیں گے کہ اُن کی حیثیت بالکل کی ادنی اقوام کی سی ہو جائے گی ۔ پس ہمت سے آگے بڑھو ، زیادہ سے زیادہ چندے لکھواؤ اور جو لوگ آنریری سیکرٹری کے طور