خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 208

1956ء 208 خطبات محمود جلد نمبر 37 اسی طرح قادیان میں ایک دفعہ سکھوں نے حملہ کیا جن کے مقابلہ کے لیے مدرسہ احمدیہ کے لڑکے پہنچ گئے ۔ میر محمد اسحاق صاحب جو اُس مدرسہ کے افسر تھے وہ بھی وہاں جا پہنچے۔ میں نے حکم دے دیا تھا کہ کوئی احمدی اُن سے سے نہ نہ لڑے۔ لڑے۔ مگر مگر سکا سکھوں نے حملہ ملہ کر کرد دیا۔ اس پر لڑ کے آخر لڑکے ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بھی اُن کا مقابلہ شروع کر دیا اور تھوڑی دیر کے بعد ہی سکھوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب سنایا کرتے تھے کہ ایک سکھ جو بڑے لمبے قد کا تھا اور مجھ سے بھی ایک فٹ اونچا تھا اور جو خود ایک فوجی خاندان میں سے تھا اور اُس کا باپ اور بھائی بھی فوج میں ملازم تھے ڈر کے مارے بھاگتا چلا آ رہا تھا اور اُس کے پیچھے مدرسہ احمدیہ احمدیہ کا ایک چھوٹا سا لڑکا تھا جس نے اپنے ہاتھ میں صرف ایک کانا پکڑا ہوا تھا۔ میرے قریب پہنچ کر وہ سکھ بڑی لجاجت سے مجھے کہنے لگا کہ مولوی صاحب! میری اس لڑکے سے جان بچائیے۔ مجھے اُس وقت حیرت ہوئی کہ یہ لڑکا اُس کی ٹانگ سے بھی چھوٹا ہے اور اس نے ہاتھ میں صرف ایک کانا پکڑا ہوا ہے مگر یہ اتنا ڈر رہا ہے کہ اس کے حواس بھی بجا نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری جان خطرے میں ہے۔ بہر حال میں نے اُس لڑکے کو روک دیا کہ جانے دو۔ تو جب ایمان پیدا ہوتا ہے تو ساتھ ہی دلیری بھی پیدا ہو جاتی ہے مگر ایمان کو ہمیشہ جائز طور پر استعمال کرنا چاہیے ناجائز طور پر نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہابیل اور قابیل کا قصہ بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو مارنا چاہا تو اُس نے کہا تو بیشک مارلے ۔ میں تجھے مارنے کے لیے اپنے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا ۔ 8 لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی مارنا چاہے تو انسان اُسے نہ مارے۔ حالانکہ اصل معنے اس کے یہ ہیں کہ میں اس طرح ہاتھ نہیں اُٹھاؤں گا کہ اس کے نتیجہ میں تو مر جائے ۔ یعنی میری اصل کوشش یہی ہوگی کہ تیرا حملہ دور ہو جائے۔ گویا مومن ایسے حالات میں بھی جبکہ اُس کی جان خطرے میں ہو صرف اتنا چاہتا ہے کہ شر دور کر دے یہ نہیں چاہتا کہ دوسرے کو کوئی ناجائز تکلیف پہنچے۔ پس اپنے اندر ایمان پیدا کر وہ اپنے بھائیوں کی سچی محبت پیدا کرو اور اس امر کو