خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 199

1954ء 199 خطبات محمود لوگ آتے ہیں اور ہمارے پاس روپیہ رکھ جاتے ہیں۔ ضرورت پر اگر ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا تو اُس امانت میں سے ہم خرچ کر لیتے ہیں۔ پھر جب ہمارے پاس روپیہ آتا ہے تو ہم امانت میں داخل کر دیتے ہیں۔ اس طرح ہمیں بھی کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور جن لوگوں نے کی روپیہ رکھا ہوتا ہے انہیں بھی کوئی تکلیف نہیں ہوتی ۔ کیونکہ وہ جتنا روپیہ مانگتے ہیں ہم انہیں دے دیتے ہیں۔ آجکل سارے بینک انہی امانتوں پر چل رہے ہیں۔ اور وہ بڑے بڑے کاروبار کر رہے ہیں۔ پس امانت بڑی اہم چیز ہے۔ جو لوگ امانت میں خیانت کرتے ہیں وہ جتنا فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں اُس سے بہت زیادہ نقصان انہیں پہنچ جاتا ہے۔ فرض کرو تم سیر دینے کی بجائے ایک شخص کو پندرہ چھٹانک سودا دے دیتے ہو تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ گھر میں جا کر تولتا ہے اور اُسے پتا لگتا ہے کہ تم نے ایک چھٹانک چیز کم دی ہے تو وہ تم سے سودا لینا بند کر دیتا ہے۔ اب تمہیں فائدہ صرف ایک چھٹانک کا ہوا مگر نقصان ہزار چھٹانک کا ہو گیا۔ تو دیانتداری بڑی دولت ہے۔ جب غدر ہوا تو حکیم محمود خاں جو ہمارے رشتہ داروں میں سے تھے امانت میں بڑے مشہور تھے۔ اور دلّی کے لوگ کہا کرتے تھے کہ ان کے پاس رکھا ہوا روپیہ ایسا ہی ہے جیسے بینک میں روپیہ رکھا ہو۔ غدر کے دنوں میں اُن کے گھر کو یہ حفاظت میسر آ گئی کہ حکیم محمود خاں مہا راجہ پٹیالہ کے بھی طبیب تھے اور مہاراجہ پٹیالہ اُس وقت انگریزوں سے مل گیا تھا۔ جب دتی فتح ہوئی تو پٹیالہ کے مہاراجہ نے ایک دستہ فوج کو حکیم صاحب کے مکان پر پہرہ کے لیے مقرر کر دیا۔ اُس وقت لوگ بھاگتے ہوئے آتے اور اپنی گٹھڑیاں اُن کی ڈیوڑھی میں پھینک کر چلے جاتے۔ نہ کوئی لکھت تھی نہ پڑھت تھی۔ بس اپنے اپنے سامان پھینکتے اور چلے جاتے مگر اُن کی دیانت کا یہ حال تھا کہ آٹھ آٹھ، دس دس سال کے بعد بھی لوگ آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری گٹھڑیاں پڑی ہیں ان کو سنبھال لو۔ اس کا اثر یہ ہے کہ اب تک بھی باوجود اس کے کہ وہ خاندان ٹوٹ چکا ہے سارا دتی یہ ذراسی بات پر ان پر جان دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ تو امانت کا طریقہ اختیار کرو اور تبلیغ اور تعلیم کی طرف توجہ کرو اور صفائی کو اپنا شعار بناؤ۔