خطبات محمود (جلد 35) — Page 198
1954ء 198 خطبات محمود پچاس ہزار مانگے تو پچاس ہزار دے دو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دو تین مہینوں میں سترہ لاکھ روپیہ نکل گیا۔ ہمارے پاس گل رقم اکیس لاکھ کے قریب تھی مگر سترہ لاکھ نکل جانے کے باوجود امانتوں کا چودہ پندرہ لاکھ پھر بھی ہمارے پاس جمع رہا۔ اس لیے کہ جو شخص ایک لاکھ روپیہ نکال کر لے جاتا وہ اپنے دل میں سوچتا کہ میں نے تو یہ روپیہ اس لیے نکلوایا تھا کہ میں سمجھتا تھا انجمن روپیہ کھا جائے گی مگر اس نے تو مجھے سارا روپیہ واپس دے دیا ہے۔ اب اتنی بڑی رقم کو میں اپنے پاس کہاں سنبھالتا پھروں۔ چنانچہ بیس ہزار وہ اپنے پاس رکھتا اور اسی ہزار دوسرے دن پھر ہمارے پاس جمع کرا جاتا۔ اس طرح بظاہر ہمارے خزانہ سے سترہ لاکھ نکلا مگر چودہ پندرہ لاکھ پھر ہمارے پاس واپس آ گیا۔ میں نے اس چیز کی بڑی سختی سے نگرانی کی اور میں نے انجمن والوں سے کہا کہ تم نے کسی سے نہیں کہنا کہ ہم لٹ گئے ۔ بلکہ جو شخص روپیہ لینے کے لیے آئے اُسے فوراً روپیہ دے دو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب جب وہ ه دوبارہ امانت رکھتے تھے تو اس تسلی اور اطمینان کے ساتھ رکھتے تھے کہ ہمارا روپیہ محفوظ ہے۔ اُن دنوں چونکہ عام طور پر لوگوں کو شکوہ تھا کہ ہم نے فلاں کے پاس روپیہ رکھا اور وہ کھا گیا، فلاں کے پاس امانت رکھی اور اس نے واپس نہ کی اس لیے ڈر کے مارے لوگ انجمن کے خزانہ سے بھی روپیہ نکلوانے لگ گئے ۔ اکیس لاکھ میں سے پہلے چند مہینوں میں سترہ لاکھ روپیہ نکل گیا مگر پھر بھی ہمارے پاس اڑھائی تین سال تک اکیس لاکھ ہی رہا۔ اور اس کی وجہ یہی تھی کہ جب لوگوں میں یہ چرچا ہوا کہ ہم نے فلاں بینک میں روپیہ رکھا تھا وہ کھا گیا، فلاں شخص کے پاس امانت رکھی تھی اُس نے خیانت کی مگر جو انجمن میں روپیہ رکھا تھا وہ محفوظ رہا تو جو لوگ اپنا روپیہ نکلوا لیتے تھے وہ بھی کچھ روپیہ اپنے پاس رکھ کر باقی روپیہ پھر ہمارے پاس جمع کرا دیتے تھے اور کچھ لوگ نئی امانتیں رکھوا دیتے تھے۔ تو دیانتداری ایسی چیز ہے جو سب سے بڑا خزانہ ہے۔ بڑا ہی بیوقوف وہ ہوتا ہے جس کے پاس دو سو روپیہ رکھا جائے اور وہ دوسو کھانے کی کوشش کرے۔ اگر وہ دوسو کو حفاظت کے ساتھ رکھے تو ، کل لوگ اسے آٹھ سو دیں گے، پرسوں پندرہ سو دیں گے اور اس امانت کے ذریعہ وہ اپنے بھی کئی کام چلا سکے گا۔ حضرت خلیفہ اول ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا تو گزارا ہی امانتوں پر ہے۔