خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 194

1954ء 194 خطبات محمود جاپان اور امریکہ وغیرہ ممالک میں زمینوں کی جو آمدن ہے وہ تو ہمارے وہم اور گمان میں بھی نہیں آ سکتی۔ لیکن ربوہ کے قریب چنیوٹ میں بھی چار پانچ ہزار پر مربع چڑھ جاتا ہے۔ اور چونکہ تحریک جدید اور صدرانجمن احمدیہ کے یہاں پانچ سو سے زائد مربعے ہیں اس لحاظ سے ہماری ہیں لاکھ کی آمد ہونی چاہیے اور اگر اس کو مدنظر رکھا جائے کہ لاہور میں گیارہ سے پندرہ ہزار پر مربع چڑھتا ہے تو پھر ہماری ساٹھ لاکھ آمد ہونی چاہیے۔ جاپان اور امریکہ میں جو آمد نہیں ہیں ان کی تو کوئی حد ہی نہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ دو ہزار روپیہ فی ایکڑ آمد پیدا کرنی چاہیے۔ یعنی پچاس ہزار روپیہ فی مربع ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس ملک میں بھی بعض ایسے مربعے ہیں۔ چنانچہ میرے ایک عزیز نے بتایا کہ میں نے سرکاری ریکارڈ میں ایک مربع دیکھا ہے جو پچپن ہزار روپیہ سالانہ مقاطعہ 1 پر دیا گیا تھا۔ گویا وہی دو ہزار روپیہ فی ایکڑ ۔ پس کوئی نہ کوئی مثال تو یہاں بھی مل جاتی ہے مگر یہ کہ سارے ملک کی پیداوار اس نسبت پر آ جائے یہ ہمارے ملک میں ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ اٹلی وغیرہ میں چار چار، پانچ پانچ سو روپیہ فی ایکڑ حاصل کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہاں کی زمینوں کی آمد پچاس لاکھ روپیہ سالانہ تو ضرور ہو جانی چاہیے۔ اگر ایسا ہو جائے تو ہمارا تبلیغی کام بھی آسان ہو جاتا ہے اور دوسرے بوجھ بھی ہلکے ہو سکتے ہیں۔ بہر حال یہ ایک خوشکن علامت ہے اس بات کی کہ اگر ہمارے کارکن اسی طرح کام کرتے رہے تو ہماری آمد خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھتی چلی جائے گی۔ پیچھے تو ہم اتنے مایوس ہو چکے تھے کہ جب مجلس شورای میں یہ بیان کیا گیا کہ ہمیں تحریک کی زمینوں سے ایک لاکھ کی آمد ہوئی ہے تو چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے جھک کر میرے کان میں کہا کہ مجھے اس خبر سے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ ہمیں ان زمینوں سے ایک لاکھ کی آمد ہوئی ہے۔ میں نے اس وقت اپنے دل میں کہا کہ یہ تو ہمارے لیے بڑی شرم کی بات ہے کہ ہمارا چارسو مربع ہو اور ایک لاکھ کی آمد ہو۔ چار سو مربع کے ہوتے ہوئے ایک لاکھ کی آمد کے معنے ہی کوئی نہیں۔ پنجاب میں آجکل کوئی مربع اڑھائی تین سو یا چار سو روپیہ مقاطعہ پر نہیں ملتا۔ بہت ہی بُری اور ناکارہ زمین ہو تب بھی سات سات، آٹھ آٹھ سو پر ملتی ہے۔ مجھے اپنی قادیان کی زمینوں کے بدلہ میں جو پنجاب میں زمین ملی ہے اس کا ایک مربع جو تین ٹکڑوں میں تقسیم شدہ ہے دو ہزار روپیہ