خطبات محمود (جلد 35) — Page 193
1954ء 193 خطبات محمود اور جس میں کراچی کی ٹھنڈک کی وجہ سے کمی آگئی تھی اور ناصر آباد اور محمود آباد میں بھی کمی رہی وہ تکلیف تیز ہو کر زخم میں پھر درد شروع ہو گیا اور مجھے اپنا پروگرام بدلنا پڑا۔ ہمارا ارادہ تو جمعرات کو ہی واپس جانے کا تھا مگر چونکہ جمعرات کے دن ناصر آباد میں اطلاع نہیں بھجوائی جاسکتی تھی اور پھر جمعہ آ رہا تھا اور میری خواہش تھی کہ میں ایک جمعہ یہاں ضرور پڑھاؤں اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ جمعہ کے بعد یہاں سے روانگی ہو۔ گو اس وجہ سے کہ یہ جمعہ جلدی پڑھایا جا رہا ہے بعض لوگ جو گاڑی میں یہاں آ رہے ہوں گے رہ جائیں گے مگر ان کی نیت کا ثواب اُن کو مل جائے گا۔ میں نے اس سفر میں یہ محسوس کیا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک حد تک یہاں جماعتیں زیادہ ہو چکی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے انجمن کی اسٹیٹوں میں کام بھی پہلے سے بہتر ہے۔ میں نے پچھلے سال بھی احمد آباد میں ذکر کیا تھا کہ ہمیشہ میری ذاتی آمدن فی ایکڑ انجمن کی زمینوں سے زیادہ رہی ہے اور میں ہمیشہ دل میں محسوس کرتا تھا کہ جو لوگ حالات سے ناواقف ہیں اور یہ جانتے نہیں کہ سب اسٹیٹوں کا اکٹھا انتظام ہے وہ یہ خیال کریں گے کہ میں اپنی زمینوں کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہوں اور میں خواہش کیا کرتا تھا کہ انجمن کی زمینوں کی آمد زیادہ ہو۔ چنانچہ اس سال دونوں کی آمد میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے یعنی ان زمینوں کی آمد پہلی نسبت سے ڈیڑھ گئے ہو گئی ہے اور میری زمینوں کی آمد نصف سے کم پر آگئی ہے۔ گویا حسابی طور پر یہاں کی زمینوں کی آمد اب میری فی ایکڑ آمد سے تین چار گنے بڑھ گئی ہے اور یہ اس بات کی ایک خوشکن علامت ہے کہ اب ان اسٹیٹیوں نے ترقی کی طرف قدم بڑھانا شروع کر دیا ہے اور اگر چند سال یہی کیفیت رہی تو امید ہے کہ اس آمدن میں اور بھی ترقی ہو جائے گی۔ پنجاب میں اگر اچھی زمین ٹھیکہ پر دی جائے تو عموماً سو روپیہ فی ایکڑ مل جاتا ہے یعنی پچیس سو روپیہ پر ایک مربع ٹھیکہ پر چڑھتا ہے۔ بلکہ باجوہ صاحب جو وکیل الزراعت ہیں اُن کے بعض مربعے بتیس بتیس سو پر بھی ٹھیکے پر چڑھے ہیں۔ اگر فی مربع پچیس سو ہی سمجھا جائے تو اس لحاظ سے تحریک کی زمینوں کی آمد دس لاکھ روپیہ سالانہ ہونی چاہیے۔ مگر چند سال پہلے یہ حالت تھی کہ اگر ہمیں تیس ہزار روپیہ بھی مل جاتا تو ہم بڑا فخر کیا کرتے تھے۔