خطبات محمود (جلد 34) — Page 346
1953ء 346 خطبات محمود مذہب کو نہیں چھوڑو گے 3۔ غرض باوجود اس کے کہ وہ جاہلانہ باتیں تھیں ان لوگوں نے ان کے لیے اپنا مال، وطن اور عزیز قربان کئے تا وہ چیزیں جو محض جاہلانہ ہیں لیکن ان کی ہیں بچ جائیں ۔ لیکن افسوس ہے ایک مسلمان پر کہ وہ اس چیز کے لیے بھی کوئی کوشش نہیں کر رہا جو حُسنِ اضافی بھی رکھتی ہے اور اپنی ذات میں بھی اچھی ہے۔ عیسائی لوگ عیسائیت کی تبلیغ کے لیے دنیا کے کناروں تک پھیلے ہوئے ہیں ۔ آج سے پچھپیں تمہیں سال پہلے میں نے ایک رسالہ میں پڑھا تھا کہ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے پادری بشمولیت چھوٹے پادریوں کے یعنی اُن لوگوں کے جو مدرس کے طور پر ، ڈاکٹر کے طور پر یا نرسوں کی شکل میں مقرر کر دیے جاتے ہیں ۔ 56 لاکھ ہیں ۔ اب اس سے اندازہ لگا لو کہ اگر چرچ کے ساتھ تعلق رکھنے والا کام یعنی تبلیغ ، تصنیف ، تدریس ، ڈاکٹر اور نرسوں کا کام 56 لاکھ آدمی کر رہا ہے تو ان پر کتنا روپیہ خرچ ہو رہا ہوگا۔ ہمارے ملک کے گزاروں اور تنخواہوں سے اُن ملکوں کے گزارے اور تنخواہیں بہت زیادہ ہیں ۔ ہمارے ملک میں پچاس ساٹھ روپے ماہوار پر ایک آدمی رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن امریکہ میں چھوٹی سے چھوٹی تنخواہ 120 ڈالر یعنی چار سو روپیہ ماہوار ہے ۔ اگر اس سے کم تنخواہ دی جائے تو حکومت اس پر مواخذہ کرتی ہے۔ اسی طرح انگلستان میں ان سکلڈ لیبر (Unskilled Labour) پر دو تین پونڈ ہفتہ وار لگ جاتے ہیں۔ جو ہمارے ملک کے لحاظ سے سو سو اسو روپیہ بنتا ہے۔ اور فنی مزدور پر تو سات آٹھ پاؤ نڈ ہفتہ وار خرچ آ جاتا ہے۔ یعنی ان کی تنخواہ تین تین چار چار سو روپیہ ماہوار ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں ہائی اسکول کے ایک ہیڈ ماسٹر کی تنخواہ تین یا چار سو روپیہ ماہوار ہوتی ہے ۔ لیکن اُن کے ایک مزدور کی اس قدر تنخواہ ہوتی ہے ۔ اور اگر اُن ملکوں میں ایک مزدور کی اس قدر تنخواہ ہوتی ہے تو تم خود اندازہ لگا لو کہ ان 56 لاکھ مشنریوں ، مصنفوں ، ڈاکٹروں ، ٹیچروں ، نرسوں ، خدمت گاروں پر کیا خرچ آتا ہو گا ۔ اگر کم از کم ایک سو روپیہ ماہوار خرچ فی فرد بھی لگا لیا جائے تو 56 کروڑ روپیہ ہوگا۔ سور ماہوار خرچ آجاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ وہ خرچ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ جو صیغے عیسائیت کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں یہ تمام صیغے چاہے وہ ڈاکٹر ہوں ، نرسیں ہوں ، اسکول ہوں، کالج ہوں ، سوال و جواب لکھانے والے ہوں یا سبق یاد کرانے والے ہوں ۔ مثلاً مسیح کون تھا ؟ اور وہ کیوں آیا ؟ جیسے