خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 345

1953ء 345 خطبات محمود اب ایک مسلمان کے لیے یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ اُس کے مذہب کا حُسن اضافی بھی ہے اور حسن حقیقی بھی ہے۔ یعنی وہ چیز دوسروں کو بھی اچھی نظر آتی ہے۔ اور پھر وہ حُسن اضافی بھی رکھتی ہے یعنی ہر مسلمان کو اپنے تعلق کی وجہ سے وہ حسین نظر آنی چاہیے۔ گویا اس کے لیے کسی جد و جہد اور کوشش کی ضرورت نہیں وہ چاروں طرف سے مذہب کے حُسن میں لپٹا ہوا ہے۔ اگر غیر مذاہب والے اپنے مذہب کے لیے جو اپنے اندر خرابی رکھتا ہے اور اپنی ذات میں خوبصورت نہیں ۔ صرف حُسنِ اضافی کی وجہ سے قربانی کرتے ہیں تو کتنے تعجب کی بات ہوگی کہ مسلمان جس کا مذہب حُسنِ اضافی بھی رکھتا ہے۔ اور حُسنِ ذاتی بھی ، وہ اس کے لیے قربانی نہ کرے۔ ایک شخص کی جیب میں رنگا رنگ کے پتھر پڑے ہوئے ہیں۔ اور وہ ان کو اپنا ہونے کی وجہ سے بچانا چاہتا ہے ۔ جیسے بچے ہوتے ہیں وہ خوبصورت پتھروں کی وجہ سے آپس میں لڑ پڑتے ہیں ۔ اور ایک شخص کی جیب میں ہیرے ہوتے ہیں۔ ان میں حُسنِ ذاتی بھی ہوتا ہے۔ کیونکہ ہیرے ہر ایک کو اچھے لگتے ہیں اور حُسنِ اضافی بھی ہوتا ہے۔ یعنی اپنی ذات میں بھی وہ قیمتی ہوتے ہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں وہ ہوں اس کے لیے وہ حُسنِ اضافی بھی رکھتے ہیں ۔ وہ یونہی پڑے ہوں تب بھی وہ قیمتی ہیں اور کسی کے پاس ہوں تب بھی قیمتی ہیں ۔ اب کیا کوئی عقلمند انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ اول الذکر تو یہ پتھروں کی حفاظت کرے گا لیکن دوسرا شخص ہیروں کی حفاظت نہیں کرے گا ؟ پس مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسے مقام پر کھڑا کیا ہے کہ وہ مقام دوسروں کے مقام سے نرالا ہے۔ علاوہ اس کے کہ اسلام اُس کا اپنا مذہب ہے اور اُس کے لیے حُسنِ اضافی رکھتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں بھی ایک حسین چیز ہے اور دوسروں کے لیے بھی اس کا حُسن اپنے اندر کشش رکھتا ہے ۔ جب رسول کریم ﷺ نے دعویٰ کیا تو مکہ والوں نے آپ کا مقابلہ کیا ۔ ایسے لوگوں نے بھی اپنے وقت کے انبیاء کا مقابلہ کیا تھا۔ وہ لوگ کیوں مقابلہ کرتے تھے؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ کہتے تھے کیا ہم اُس مذہب کو چھوڑ دیں جس پر ہمارے آباؤ اجداد قائم تھے 2۔ گویا وہ ذاتی حسن کو نہیں دیکھتے تھے ۔ بلکہ صرف حُسنِ اضافی اُن کے پیش نظر تھا ۔ اور حُسنِ اضافی بھی اتنا پسندیدہ ہوتا ہے کہ باوجود اس مذہب کے خراب ہونے کے ان لوگوں نے اپنے مذہب کو چھوڑ نا نہ چاہا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اگر تمہارے آبا ؤ اجداد بیوقوف ہوں گے تو کیا پھر بھی تم اس