خطبات محمود (جلد 34) — Page 289
خطبات محمود 289 1953ء یا یوں کہوں کہ وہ اپنے محکمہ میں اپنے حصہ کا کمانڈنگ آفیسر تھا۔ تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد میں نے اُسے ایسا مجبور کیا اور اُسے ایسے مقام پر لا کر کھڑا کر دیا کہ اُسے اس کے بغیر چارہ نہیں تھا کہ وہ اقرار کرتا کہ میں غلطی پر ہوں ۔ اور خدا تعالیٰ کا فیصلہ میرے خلاف ہے ۔ اس موقع پر میں نے اُس سے اس رنگ میں سوال کیا کہ اب یہ پوزیشن ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور احادیث سے یہ بات واضح ہے اور احمدی غیر احمدی سب اس پر متفق ہیں ۔ اب آپ کے لیے کوئی چارہ نہیں کہ آؤ فیصلہ کریں کہ خدا تعالیٰ عقل مند ہے یا آپ عقل مند ہیں۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد اُس کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا اور اُس نے کہا میں تو سمجھتا ہوں کہ میں خدا سے زیادہ عقل مند ہوں ۔ در حقیقت یہ اُس کی شکست کا اعتراف تھا ۔ اس کے یہ معنی نہیں تھے کہ وہ خدا تعالیٰ سے بہتر سمجھتا ہے۔ بلکہ در حقیقت بات یہ تھی کہ وہ جانتا نہیں تھا کہ خدا ہے اور اُس کی تعلیم کیا ہے۔ اُس کی اِس بات پر ساری مجلس ہنس پڑی اور وہ خود بھی ہنس پڑا ۔ یہی پوزیشن اُس احمدی کی ہے جو ایک طرف یہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب سچے ہیں اور آپ کو الہام کر کے خدا تعالیٰ نے اسلام کے دوبارہ احیاء کے لیے کھڑا کیا ہے اور دوسری طرف یہ کہتا ہے کہ وہ کام جو مرزا صاحب کے سپر د کیا گیا وہ میں نہیں کر سکتا ۔ اس سے زیادہ جہالت اور کیا ہے۔ رائج پس تمہارے سپرد ایک کام ہے۔ اور وہ ہے دنیا کی اصلاح اور اسلام کی تعلیم کو پھر سے کرنا ۔ پس پہلی چیز اس تعلیم کو اپنے نفس میں رائج کرنا ہے۔ جب تک تم اسے اپنے اپنے نفس میں رائج نہیں کرتے تم اسے دنیا میں بھی رائج نہیں کر سکتے ۔ لیکن تم میں سے کتنے ہیں جو ایسا کرتے ہیں جب تم کہتے ہو کہ ہم نے دنیا سے جھوٹ کو مٹانا ہے اور تم کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس لیے کھڑا کیا ہے کہ ہم دنیا سے جھوٹ کو مٹا دیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم دنیا سے تو جھوٹ مٹانے کی طاقت رکھتے ہو اور تم جھوٹ کو اپنے دل سے نہ مٹا سکو۔ اگر تمہیں اس لیے کھڑا کیا گیا ہے کہ تم شرک کو دنیا سے مٹا دو تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم اسے اپنے دل سے نہ مٹا سکو اور دنیا سے مٹا دو۔ اگر تمہیں اس لیے کھڑا کیا گیا ہے کہ تم دنیا سے فتنہ و فساد مٹا دو تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم اسے اپنے دل سے نہ مٹا سکو اور دنیا سے مٹا دو ۔ یہ ساری باتیں نا ممکن ہیں ۔ پس اس رنگ میں حقیقت پر غور کرو اس سے زیادہ حماقت اور کوئی نہیں کہ تم کہو مرزا صاحب وفات مسیح کا مسئلہ لے کر دنیا میں