خطبات محمود (جلد 34) — Page 288
1953ء 288 خطبات محمود کرو۔ تو ہو سکتا ہے کہ وہ سوچے کہ آیا وہ نظام صحیح ہو سکتا ہے یا نہیں ۔ اگر ایک مشین ٹوٹ جائے یا بگڑ جائے اور مالک کسی مستری کو بلائے اور اُس سے کہے کہ میں تمہارے سپرد یہ کام کرتا ہوں ۔ تو ہو سکتا ہے کہ وہ مستری یہ پوچھے کہ مشین اپنی آخری حد کو بھی پہنچ سکتی ہے۔ معلوم نہیں کہ وہ صحیح ہو سکتی کا پیدا ہے یا نہیں۔ لیکن کیا کبھی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انسانوں ، فطرتوں ، عقلوں ، قوتوں اور طاقتوں کا کرنے والا خدا کسی کو یہ کہے کہ تم یہ کام کرو یا فلاں چیز کی درستی کرو تو وہ سوچنے لگے کہ یہ کام ہو بھی سکتا ہے یا نہیں؟ اگر وہ کام ہو نہیں سکتا تھا تو اُس نے اُس کے سپر د کیوں کیا ؟ ہو سکتا ہے کہ ایک مالدار شخص کسی مستری کے سپرد ایسا موٹر کرے جو درست نہ ہو سکے ۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ماہر انجینئر کسی کے سپر د ایسا کام کر دے ۔ جو نہ ہو سکتا ہو۔ کیونکہ وہ خود سب کام جانتا ہے ۔ اگر وہ یہ سمجھے گا کہ فلاں کام نہیں ہو سکتا تو وہ اس کام کو کسی کے سپرد کیوں کرے گا ۔ ایک کروڑ پتی جو موٹر کی مشینری سے واقف نہیں ، ہو سکتا ہے کہ اُس کی موٹر کسی چیز سے ٹکڑائے اور اُس کے تمام اندرونی پُرزے ٹوٹ چکے ہوں ۔ وہ کسی مستری کو بلا کر یہ کہے کہ تم اس کو درست کر دو میں تمہیں انعام دوں گا ۔ لیکن ایک ماہر انجینئر جس کا کام اُس موٹر کے پرزوں کو بنانا ہے ایسی حماقت نہیں کر سکتا کہ وہ جانتا ہو کہ اب موٹر کی مرمت نہیں ہو سکتی اور کسی مستری کو کہے کہ تم اسے درست کر دو۔ اسی طرح اگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ تم نے فلاں کام کرنا ہے۔ تو اس کے معنی ہیں کہ تم وہ کام یقیناً کر سکتے ہو ۔ پس اگر تم کہتے ہو کہ تم وہ کام نہیں کر سکتے تو اس سے زیادہ حماقت اور کوئی نہیں ۔ اگر تم یہ کہتے ہو کہ تم فلاں کام نہیں کر سکتے ۔ تو اس کے یہ معنی ہیں کہ تم خدا تعالیٰ سے زیادہ علم رکھنے والے ہو ۔ مجھے یاد ہے پارٹیشن (Partition) کے بعد میں ایک جگہ پر گیا۔ وہاں ہوائی جہازوں کا ایک بڑا افسر اور صوبہ کے وزیر اعظم بھی تھے۔ مجلس میں سے بعض نوجوانوں نے مذہب کے متعلق بعض اعتراضات کرنے شروع کیے۔ چونکہ دوسرے لوگ اور باتیں کر رہے تھے میں نے وزیر اعظم سے کہا ان نو جوانوں نے مذہب کے متعلق بعض اعتراضات کیے ہیں اگر آپ برا نہ منائیں تو میں ان کو ان اعتراضات کے جوابات دے دوں ۔ وہ کہنے لگے آپ جواب دیں ہمیں بھی اس سے فائدہ ہوگا۔ چنانچہ میں نے ان اعتراضات کے جوابات دینے شروع کیے۔ جیسا کہ قاعدہ ہے مجلس میں بات چکر کھا جاتی ہے۔ اسی طرح بات چکر کھاتے کھاتے اُسی فوجی افسر تک پہنچی جو چوٹی کا افسر تھا۔