خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 283

1953ء 283 خطبات محمود ہو جاتے تھے اور وہ سمجھتی تھیں کہ ہم بڑی مالدار ہیں۔ لیکن اسی سونے سے یورپ کے ممالک نے بعض اشیاء تیار کیں اور ان کے ذریعہ دوسرے ممالک سے کئی گنا زیاہ مال لے آئے ۔ پس کسی چیز کا موجود ہونا کافی نہیں ۔ تم اس بات پر فخر نہ کرو کہ تمہارے پاس قرآن کریم موجود ہے۔ اگر تمہارے پاس قرآن کریم موجود ہے تو سوال یہ ہے کہ تم نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا ؟ اگر تم قرآن کریم پڑھ کر اس سے فائدہ اٹھاتے ہو تو تم سے بڑھ کر خوش قسمت اور کوئی نہیں ۔ اور اگر تم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو تم سے بڑھ کر بد قسمت بھی اور کوئی نہیں ۔ کیونکہ تمہاری جیبوں میں سونا بھرا )ا 15 نومبر 1953ء المصلح ہے مگر تم اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے ۔“ 1 الفاتحه : 2 83 :2 يس 3 مَثَلُ الَّذِينَ حَمِلُوا التَّوْرَيةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ( الجمعة : (6) 4 اپنڈے سائٹس: (APPENDICITIS) وہ مرض جس میں آنت سوج جاتی ہے۔