خطبات محمود (جلد 34) — Page 282
1953ء 282 خطبات محمود کیا جائے تو نہ خدا تعالیٰ کچھ فائدہ دے سکتا ہے، نہ رسول فائدہ دے سکتا ہے اور نہ قرآن کریم فائدہ دے سکتا ہے ۔ پس تم اپنی زندگیوں کو اس طرح ڈھا لو کہ تم زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکو۔ قرآن کریم پڑھو اور اس پر غور کرو، فکر کرو اور اپنی ضرورت کے مطابق اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ خدا تعالیٰ کی صفات کو ہی لے لو ۔ ان کو بھی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ یا حی و قیوم خدا ! فلاں شخص کو مار دے تو یہ دعا درست نہیں ہوگی ۔ زندہ اور قائم رکھنے والا خدا کسی کو مارے گا کیوں ۔ قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ اُن صفات کو استعمال کیا جائے جن کا دعا کے ساتھ جوڑ ہو۔ مثلاً ہم یہ کہیں اے حَيُّ و قَيُّوم خدا ! تو میری قوم کو زندہ کر اور اسے منتقم خدا ! تو میرے دشمن کو مار دے۔ تو یہ درست ہوگا۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ اے حَيُّ و قَيُّوم خدا ! تو میرے دشمن کو مار دے۔ اور اسے منتقم اور قہار خدا ! تو میری قوم کو ترقی دے۔ کیونکہ زندہ رکھنے والی اور ترقی دینے والی صفات اور ہیں ۔ اور مارنے والی صفات اور ہیں ۔ یا مثلاً رزق کا سوال ہے ۔ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اے حَيُّ و قَيُّومُ خدا ! تو ہمیں رزق دے۔ بلکہ یہ کہیں گے کہ اے رازق و باسط خدا ! تو ہمیں رزق دے ۔ یا اگر ہم بیمار ہیں تو یہ نہیں کہیں گے کہ اے رازق خدا ! تو ہمیں شفا دے ۔ رازق کی صفت بے شک اچھی ہے لیکن شفاء دینے کا اس صفت سے کوئی تعلق نہیں ۔ اگر شفا کے لیے دعا کرنی ہے۔ تو خدا تعالیٰ کی صفت شافی کا ذکر کرو۔ اور کہواے شافی خدا! تو مجھے شفا دے۔ غرض ان صفات کے استعمال میں بھی بڑے غور کی ضرورت ہے ۔اور دعا جو صفات الہیہ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے اس میں بھی غور وفکر کی ضرورت ہے ور نہ کوئی دعا کام نہیں دیتی۔ پس تم سوچنے کی عادت ڈالو ۔ قرآن کریم پڑھو اور پھر اس پر غور کرو۔ اور غور کرنے کے بعد اس پر عمل کرو ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم ایک زندہ اور فعال قوم نظر آنے لگ جاؤ گے ۔ اور دنیا کرو۔ الرسم کرو ہم اور گے۔ او تمہیں دیکھ کر حیران رہ جائے گی ۔ لوہے کو دیکھ لو۔ یورپ اس سے انجن بناتا ہے لیکن تم اس سے محض ہتھوڑے وغیرہ بناتے ہو۔ یا زیادہ سے زیادہ قینچیاں بنا لیتے ہو۔ پرانے زمانے میں عورتیں سیر سیر سونا کانوں میں ڈال لیتی تھیں ۔ اُن کے کان لٹک جاتے تھے ، اُن میں بڑے بڑے سوراخ