خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 260

1951ء 260 خطبات محمود اپنے لٹریچر کا ترجمہ کر دیا ہے۔ یہ کام بھی ہم سے بہت بڑے اخراجات کا مطالبہ کرتا ہے۔ غرض ایک بہت وسیع کام ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ مگر ہمارا سالانہ بجٹ جب ہمارے روز مرہ کے اخراجات کے لیے بھی کافی نہیں ہو سکتا تو ہمارے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم ایک کروڑ روپیہ کا ریز رو فنڈ قائم کریں تا کہ کسی حادثہ اور مصیبت کے وقت اگر خدانخواستہ ہمارے چندے مرکز کی عارضی ضرورت کو پورا نہ کر سکیں تو وہ ریز رو فنڈ کی آمد سے پوری ہو سکے اور سلسلہ کے کاموں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ آج سے چالیس یا پچاس سال کے بعد جب ہماری جماعت ترقی کر جائے گی اور بڑے بڑے امراء ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے تو اُس وقت لوگ جب میرے اس خطبہ کو پڑھیں گے تو وہ حیران ہوں گے کہ ہمارا خلیفہ جو موعود خلیفہ تھا، جو مصلح موعود تھا اتنا چھوٹا حوصلہ رکھتا تھا کہ پہلے اُس نے تیس لاکھ کا ریز رو فنڈ قائم کیا اور پھر اس نے کہا کہ اب ہمیں ایک کروڑ روپیہ کا ریز رو فنڈ قائم کرنا چاہیے۔ وہ حیران ہوں گے کہ کیا یہ بھی کوئی روپیہ ہے جس کا اتنے بڑے خلیفہ نے مطالبہ کیا تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایک دفعہ روپیہ کے لیے اعلان کیا تو مسٹر ماریسن 2 نے فوراً پندرہ لاکھ روپیہ کا چندہ پیش کر دیا، راک فیلر 3 را شیلڈ 4 وغیرہ نے چھ چھ سات سات کروڑ روپیہ چندہ دیا ہے۔ پس جب وہ میرے اس خطبہ کو پڑھیں گے تو حیران ہوں گے اور وہ اس تھوڑے سے روپیہ کو ہمارے حوصلہ اور عزم کی کمی پر محمول کریں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اپنی جماعت کی موجودہ حالت کے لحاظ سے کہہ رہے ہیں ورنہ ہم بھی جانتے ہیں کہ جو عظیم الشان کام ہم نے سرانجام دینا ہے اُس کے لیے کروڑوں ہی نہیں اربوں روپیہ کی ضرورت ہے۔ لیکن اس وقت ہماری نگاہ میں وہی روپیہ بڑی قیمت رکھتا ہے جو ہماری جماعت اپنی غربت کی حالت میں پیش کر رہی ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اُس عورت نے اپنے کڑے اُتار کر دے دیئے تھے تو اُس وقت یہی سمجھا گیا تھا کہ اس نے بہت بڑی قربانی کی ہے اور حقیقتاً اس کی قربانی بڑی تھی۔ لیکن وہ کڑے آخر کتنے روپوں کے ہوں گے؟ زیادہ سے زیادہ وہ سات سو یا ہزار روپیہ کے ہوں گے لیکن بعد میں مسلمانوں کے پاس اتنی دولت آئی کہ سات سو یا ہزار ان کی نگاہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا تھا۔ خود ہمارا ملک اگر چہ ایک غریب ملک ہے مگر اس غریب ملک کا ہندو بھی اتنا مالدار تھا کہ ایک دفعہ میں بمبئی گیا تو میں نے چاہا کہ کچھ کپڑا بھی خرید لوں ۔ میں نے دیکھا کہ دکاندار کے سامنے