خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 259

1951ء 259 خطبات محمود خدا تعالیٰ کی راہ میں دی ہے تو آپ نے فرمایا تیرا دوسرا ہاتھ بھی درخواست کرتا ہے کہ تو اسے دوزخ سے بچا۔ اس پر اس نے اپنا دوسرا کڑا بھی اُتار کر دے دیا۔ 1 تو عورتوں میں میں نے دیکھا ہے کہ ان میں قربانی کا مادہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ کچھ جذباتی ہونے کی وجہ سے اور کچھ یہ خدائی قانون ہے کہ روپیہ جتنا کم ہو ا تنی ہی ہمت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ اور جتنا زیادہ روپیہ ہو اتنے ہی تفکرات زیادہ ہو جاتے ہیں کہ فلاں کام بھی ہو جائے ، فلاں کام بھی ہو جائے ۔ چونکہ عورت کے پاس روپیہ کم ہوتا ہے اس لیے وہ قربانی میں مردوں سے آگے نکل جاتی ہے۔ لیکن اس واقعہ کو بدلنا بھی ہمارے اختیار میں ہے۔ بیشک واقع یہی ہے کہ عورتیں زیادہ قربانی کرتی ہیں لیکن یہ خدا تعالیٰ کا کوئی اٹل فیصلہ نہیں کہ وہی زیادہ قربانی کریں گی مرد زیادہ قربانی نہیں کر سکتے۔ یہ صرف ایک کمزوری اور ضعف کی علامت ہے جسے کوشش کے ساتھ دور کیا جا سکتا ہے۔ اگر عورت اپنی طبعی کمزوری اور فطری ضعف کے باوجود قربانی کے میدان میں آگے نکل جاتی ہے تو مرد کیوں اپنی کمزوری کو دور نہیں کر سکتے ؟ جب مردوں کو جائداد میں سے دُہرا حصہ ملتا ہے تو انہیں ہمت بھی دگنی دکھانی چاہیے۔ خدا تعالیٰ نے انہیں دو روپے دیئے ہیں مگر چندہ دیتے وقت وہ عورت کے مقابلہ میں ٹھنی دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مردوں اور عورتوں کے مجموعی چندوں کو اگر دیکھا جائے تو مردوں کا چندہ زیادہ ہوتا ہے لیکن نسبتی لحاظ الحاظ سے چندہ دیتے وقت اگر عورت ایک روپیہ دینے کا حوصلہ رکھتی ہے تو مرد ٹھنی دینا چاہتے ہیں حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ مرد اس کے ایک روپیہ کے مقابلہ میں دو بلکہ چار روپے دینے کا حوصلہ رکھتے ۔ بہر حال اس چیز کو بدلنا ہمارے اختیار میں ہے۔ اگر ہم جدوجہد کریں، خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کریں، اُس کے حضور استغفار سے کام لیں اور اُس سے دعا کریں کہ الہی ! تو نے ہمیں طاقت زیادہ دی ہے لیکن ہم میں حوصلہ کم ہے۔ تو ہماری اس کمزوری اور ضعف اور غفلت کو دور فرما اور جس طرح تو نے ہمیں عورت ن پر درجہ کے لحاظ سے فضیلت دی ہے اُسی طرح تو ہمیں عورت پر قربانی کے لحاظ سے بھی فضیلت دے۔ تو یقیناً خدا تعالیٰ ہماری سنے گا اور وہ ہم میں بھی قربانی کی زیادہ روح پیدا کر دے گا۔ پس یہ کام ایسے ہیں جو بہت سے اخراجات چاہتے ہیں۔ پھر لٹریچر ہے۔ دنیا میں پانچ سات ہزار زبان ہے لیکن صرف آٹھ دس زبانوں میں احمدیت کا لٹریچر ہے۔ عیسائیوں نے قریباً ہر زبان میں