خطبات محمود (جلد 31) — Page 234
1950ء 234 خطبات محمود دین الہی کا دنیا پر غالب کرنا ۔ اس مقصد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایجاد نہیں کیا۔ اس کو صرف دُہرایا ہے یا یاد دلایا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مقصد کو دنیا کے سامنے نئے سرے سے پیش نہیں کیا بلکہ اللہ تعالی نے اسے نئے سرے سے قائم کرنے کے لئے آپ کو کھڑا کیا ہے۔ پس جہاں تک مقصد کا سوال ہے ہر بیدار اور دیانتدار غیر احمدی بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ پھر ایک احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ احمدی اور غیر احمدی میں یہی فرق ہے کہ ایک غیر احمدی اس مقصد کو اپنے سامنے نہیں رکھتا۔ عام غیر احمدی اس مقصد کو بھول گئے ہیں لیکن دیانتدار غیر احمدی اسے تسلیم تو کرتے ہیں لیکن اسے پورا کرنے کے لئے مشترکانہ اور متحدانہ جدو جہد کے لئے تیار نہیں ۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ایسی جماعت قائم کی ہے جو اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے مشتر کا نہ اور متحدانہ جدو جہد کا اقرار کرتی ہے۔ حقیقتا اگر دیکھا جائے تو یہی ایک فرق ہے جو غیر احمدی اور احمدی میں پایا جاتا ہے۔ باقی سب باتیں اس کے تابع ہیں۔ اگر نئے الی ئے الہام کی ضرورت پیش آئی ، اگر نئی وحی کی ضرورت پیش آئی تو اسی لئے کہ تا اس اقرار کے اندرز ور پیدا کیا جائے ، اس کے اندر پختگی پیدا کی جائے ، اور جو اس مقصد کو پورا کرنے والے ہیں خدا تعالیٰ اُن کے ایمانوں کو ایسا مضبوط کر دے کہ وہ سب کچھ اس کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں ۔ اگر غور کیا جائے تو مسیحیت و مہدویت ، الہام جدید اور وحی الہی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوئی، وہ معجزات اور نشانات جو آپ نے دکھائے وہ سب اس کے تابع ہیں ۔ وہ نشانات اور وحی اس مقصد کو دہرانے کے لئے ہیں۔ پس احمدیت کوئی نئی چیز پیش کرنے کے لئے نہیں آئی ۔ وہ اس لئے آئی ہے کہ تا زندہ خدا کو لوگوں کے سامنے کھڑا کرے۔ اور اسے دیکھ کر ان کے اندر عزیمت، ہمت اور ولولہ پیدا ہو جائے ۔ اور وہ قربانی کرنے کے لئے تیار ہو ہو جائیں کہ جس کے بغیر اسلام اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو حاصل نہیں کر سکتا۔ اور اگر حقیقت یہی ہے تو احمدی وہی کہلا سکتا ہے جو قربانی کے لئے تیار ہو اور اس کے سامنے ہمیشہ یہ بات رہے کہ اُس نے ساری دنیا میں اسلام کی عظمت اور شوکت کو قائم کرنا ہے۔ اگر یہ مقصد کسی کی نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے یا اس کی قربانی کمزور پڑ جاتی ہے تو یقیناً جتنی جتنی اُس کی قربانی کمزور ہوتی جاتی ہے اُتنا اُتنا وہ احمدیت سے دُور چلا جاتا ہے اور آپ ہی آپ احمدیت سے خارج ہو جاتا ہے۔ جہاں تک گھروں میں بیٹھ کر نماز پڑھنے اور ذکر الہی کرنے کا سوال ہے ہزاروں ہزار غیر احمدی