خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 233

1950ء 233 خطبات محمود رہے گی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام کو جو مسلمانوں نے بھلا دیا تھا اور آپ کے بتائے ہوئے رستہ کو جو مسلمانوں نے ترک کر دیا تھا اور آپ کی سکھائی ہوئی تعلیم کو جسے لوگوں نے چھوڑ دیا تھا اور اس کے نتیجہ میں اپنے عمل کی کمزوری اور خدا کی گرفت کی وجہ سے مسلمانوں کا قدم ذلت ، نکبت اور رسوائی کی طرف لوٹ گیا تھا اور یا تو وہ ایک وقت میں دنیا کے ایک بڑے حصہ پر غالب تھے اور یا وہ سارے ممالک میں مغلوب ہو گئے اور ان کی دینی ، اخلاقی ، سیاسی، تمدنی اور علمی برتری دینی، اخلاقی، سیاسی ، تمدنی اور علمی شکست اور کمزوری میں متبدل ہو گئی ہے۔ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اس ذلت کو دور کرے اور پہلے طریق کو دوبارہ دنیا میں رائج کرے۔ اسلامی اخلاق کو دوبارہ پیدا کرے اور اپنے دین کو پھر دنیا میں غالب کرے اور کفر اس کے مقابلہ میں شکست کھا کر اپنی مقررہ جگہ پر چلا جائے۔ یہی احمدیت کے قیام کی غرض تھی ، یہی غرض اب بھی ہے اور یہی غرض قیامت تک رہے گی۔ دشمن خواہ کتنی غلط باتیں ہماری طرف منسوب کرے، وہ خواہ کتنے غلط عقیدے ہماری طرف منسوب کرے، وہ خواہ کتنی باتیں اپنے دل سے بنا کر ہمارے عقیدوں میں داخل کرنے کی کوشش کرے یہ ایک صداقت ہے جس کا کوئی غیر بھی دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کرے گا تو اس پر واضح ہو جائے گی اور اُسے تسلیم کرنا ہوگا کہ احمدیت کا مقصد اور مدعا ابتدا سے لے کر آج ج تک یہی رہا ہے اور آج سے لے کر قیامت تک یہی رہے گا۔ اور اگر یہ صحیح ہے کہ یہی منشاء احمدیت کے قیام کا تھا، یہی منشاء احمدیت کے قیام کا ہے اور یہی منشاء احمدیت کے قیام کا رہے گا۔ اور اگر یہ صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں بھیجے گئے تھے اور قرآن کریم خدا تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے اور قیامت تک قائم رہنے والی کتاب ہے تو پھر یہ تیسرا نتیجہ بھی ضروری ہے کہ یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ دنیا کی طاقتیں اور قو تیں خواہ وہ سیاسی ہوں ، تمدنی ہوں علمی ہوں یا کسی قسم کی بھی ہوں منفر دانہ طور پر یا مشترک طور پر الگ الگ وقتوں میں یا ایک ہی وقت میں مختلف سکیموں کے ماتحت یا ایک ہی سکیم کے ماتحت اچانک یا کسی سوچی سمجھی ہوئی تدبیر کے مطابق اگر حملہ کریں گی تو وہ ناکام و نامرادر ہیں گی اور احمدیت ہی غالب آئے گی۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ احمدی اپنے فرائض کو ادا کریں اور وہ اپنے مقصد کو اپنے سامنے ہمیشہ زندہ رکھیں۔ جہاں تک مقصد کا سوال ہے احمدیت کا وہی مقصد ہے جو اسلام کا تھا۔ اور وہ میں نے بتایا ہے