خطبات محمود (جلد 30) — Page 170
1949ء 170 خطبات محمود ہر مُربی اور معلم کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ کلاسیں لگا کر لوگوں کو دین کی موٹی موٹی باتیں سکھائے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں سنائے ، جماعت کے پچھلے واقعات اور گزشتہ انبیاء کے واقعات سنا سنا کر انہیں بتائے کہ اب ان کو کس رنگ میں قربانی کرنی چاہیے، انہیں اچھے اخلاق سکھائے۔ یوں تو ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق دکھا سکتا ہے۔ لیکن موقع و محل کے لحاظ سے ضروری نہیں کہ وہ اعلیٰ درجہ کے ہی ہوں ۔ مثلاً کسی نے کھانا کھا لیا اور پھر وہ دوسرے کا کھانا ے کا کھانا دیکھے اور اس کے دل میں لالچ پیدا نہ ہو تو یہ کوئی اعلیٰ درجہ کے اخلاق نہیں ہوں گے ۔ ہاں ! اُسے فاقہ ہو اور پھر وہ کھانا پڑا ہوا دیکھے اور اس کے دل میں لالچ ہو پیدا نہ ہو تو یہ اچھے اخلاق کا مظاہرہ ہوگا ۔ یہ پس معلموں کا یہ فرض ہے کہ وہ لوگوں کو دین سکھائیں اور جماعتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اُن سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ انسان کو خدا تعالیٰ نے ایسی طاقت دی ہے کہ اگر وہ تمام دنیوی کام کرتا رہے تب بھی کچھ نہ کچھ وقت اس کے پاس بچ جاتا ہے جس میں وہ دین سیکھ سکتا ے۔ بشرطیکہ وہ محنت سے کام لے۔ لیکن اگر وہ اس طاقت سے فائدہ نہ اٹھائے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ ہوتا ہے۔ پس چاہیے کہ تمہارا ہر فکر ، تمہارا ہر خیال اور تمہارا ہر عمل درست ہو اور وہ دوسروں سے زیادہ مکمل ہو۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ جماعتوں کے پاس جو مربی اور معلم آئیں اُن سے وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اور اگر اُن سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے تو تم اپنی جماعت میں سے ہی ایک آدمی مقرر کر لو جو تمہیں دین سکھائے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اردو میں لکھی ہوئی کتابیں ہر ایک اردو پڑھا لکھا آدمی پڑھ سکتا ہے اُن سے مسائل سیکھنے کی کوشش کرو ۔ اگر کوئی ایسا نہ کرے اور پھر کہے کہ مجھے احمدیت سے کیا ملا ہے تو یہ درست نہیں ہوگا۔ اس کی مثال ایسی ہی ہو گی جیسے کوئی شخص کو نین کھانے کی بجائے جیب میں ڈال لے اور پھر کہے کہ مجھ پر کونین نے اثر نہیں کیا حالانکہ اثر تب ہوتا جب وہ کھاتا۔ جس طرح مردہ اور زندہ برابر نہیں ہو سکتے ، بہرے اور سننے والے برابر نہیں ہو سکتے ، اندھے اور سو جا کھے برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح دین سیکھنے کی کوشش کرنے والا اور نہ کرنے