خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 169

1949ء 169 خطبات محمود غرض لغو بحث کے نتیجہ میں انسان چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور بڑی باتوں کو چھوڑ دیتا ہے اور کبھی بڑی بڑی باتوں پر بیٹھے رہتا ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ نہ بڑی باتوں کو چھوڑیں اور نہ چھوٹی باتوں کو چھوڑیں اور زیادہ سے زیادہ دین سیکھنے کی کوشش کریں۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ ہمارے مربی اور معلم جماعتوں میں جاتے ہیں لیکن جماعت کے لوگ ان سے دینی مسائل سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ پُرانے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ امام بخاری نے سترہ سفر آدھی دنیا کے صرف ان حدیثوں کے لیے کیے جن کو وہ پہلے سن چکے تھے۔ صرف اس لیے کہ اگر کسی واسطہ کو اڑایا جا سکے تو اسے اڑا دیا جائے ۔ مثلاً چھ واسطوں سے امام بخاری کو پتا لگا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں بات یوں فرمائی ہے۔ اس پر وہ چھٹے آدمی کے پاس جاتے اور پوچھتے ہیں کہ تم نے یہ بات کس سے سُنی ہے؟ پھر آپ پوچھتے ہیں کہ وہ شخص زندہ ہے یا مر گیا ہے؟ اگر وہ کہتا کہ جس سے میں نے یہ بات سنی ہے وہ مر گیا ہے تو بات ختم ہو جاتی ۔ اگر کہتا کہ وہ زندہ ہے اور فلاں مقام پر رہتا ہے تو آپ وہاں سے چل پڑتے اور اُس شخص سے جا کر پوچھتے کہ کیا تم نے یہ بات بیان کی ہے؟ اگر وہ کہتا کہ ہاں میں نے یہ بات بیان کی ہے تو وہ باقی تمام واسطوں کو چھوڑ دیتے ۔ اس طرح آپ نے سترہ سفر کیے۔ اس لیے نہیں کہ آپ کو اس بات کا علم نہیں تھا بلکہ اس لیے کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے اور قریب ہو جائیں ۔ اس جدو جہد کا نتیجہ یہ تھا کہ گو وہ دوسو سال کے بعد پیدا ہوئے لیکن جو روایات انہوں نے لکھی ہیں وہ ان لوگوں کی روایات سے زیادہ صحیح ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے سو سال بعد روایات لکھیں کیونکہ انہوں نے اُن روایات کو تلاش کیا جن میں واسطے کم تھے ۔ اگر پہلے محدث نے ایک روایت کو چھ واسطوں سے بیان کیا تھا تو آپ نے اُسے پانچ واسطوں کے ساتھ بیان کر دیا۔ غرض صحابہؓ اس طرح اپنے علم کی تکمیل کیا کرتے تھے۔ اب گجا تو یہ حالت ہے کہ وہ لوگ دُور دُور جا کر تحصیل علم کیا کرتے تھے اور کجا یہ حالت ہے کہ ہم معلم بھیجتے ہیں لیکن لوگ ان سے علم دین نہیں سیکھتے ۔