خطبات محمود (جلد 30) — Page 96
1949ء 96 خطبات محمود مدینہ اور قادیان کے مراکز تمہارے پاس پہلے سے موجود ہیں لیکن تم کو ان تینوں کی تمثیل کے طور پر ہر ملک میں اور ہر جگہ اپنے مراکز بنانے چاہیں تا لوگ اپنی زندگیاں وقف کر کے وہاں رہیں اور لوگ ان سے دین سیکھیں اور پھر اسے لوگوں میں پھیلائیں ۔ تم اگر یہ انتظام کر لو، اگر ہر ضلع والے اپنے ضلع میں ایک مرکز بنا لیں اور ہر صوبے والے اپنا مرکز قائم کر لیں اور ہر ملک والے اپنا ایک مرکز بنالیں تو احمدیت کی ترقی یقیناً پہلے سے زیادہ ہو جائے گی۔ ہر ضلع اور ہر ملک میں الگ مرکز نہ ہونے کی وجہ سے احمدیت کو ابھی طاقت حاصل نہیں ہوئی ۔ مثلاً لائکپور ہے۔ لائلپور میں مرکز نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کو اس ضلع میں طاقت حاصل نہیں ہوئی۔ لائکپور کے بہت ہی کم لڑکوں نے قادیان جا کر دینی تعلیم حاصل کی ہے۔ کوئی ہمت والا ایسا ہو گا جس نے اپنا لڑکا وہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا ہو۔ یا سرحد والے ہیں۔ ہم تھک گئے مگر وہ اپنے بچے دینی تعلیم کے لیے نہیں بھیجتے اور پڑھنے کے معاملہ میں وہ بہت کتراتے ہیں اور بہت ہی کم ایسے لڑکے ہیں جنہوں نے قادیان جا کر دینی تعلیم حاصل کی ہے۔ بعض لڑکے وہاں سے آئے بھی تھے لیکن وہ بعد میں بھاگ گئے ۔ لیکن اگر وہاں کا بھی ایک مرکز بنا دیا جاتا اور کچھ لوگ اپنی زندگیاں وقف کر کے وہاں بیٹھ جاتے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ لوگ سینکڑوں کی تعداد میں وہاں آتے اور دینی تعلیم حاصل کرتے۔ اسی طرح سندھ میں اور بلوچستان میں دو تین مولوی بیٹھ جاتے اور وہ چند طالب علموں کو بلا کر انہیں دینی مسائل سکھاتے ، اُنہیں دوسرے لوگوں سے چندہ کر کے کتابیں حاصل کر دیتے تو اس کا بہت فائدہ ہوتا۔ مثلاً اگر وہ پانچ سات طالبعلم تیار کر لیتے تو وہ آگے پچھپیں تھیں طالبعلموں کو پڑھاتے ۔ پھر وہ آگے دوسرے لوگوں کو پڑھاتے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہاں آج سینکڑوں نہیں ہزاروں آدمی ایسے ہوتے جو دین کے ماہر ہوتے۔ غرض مرکزیت کا پیدا کرنا نہایت اہم چیز ہے اور میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ۔ جدید مرکز کے قیام کے لیے ہر قسم کی کوششیں کریں۔ جب وہ اپنا جدید مرکز قائم کر لیں گے تو پھر صوبہ دار مرکز بنائے جائیں گے اور پھر ضلع وار مرکز بنائے جائیں گے تا مقامی لوگ آسانی کے ساتھ دینی تعلیم حاصل کر سکیں۔ جب ایک غریب سے غریب آدمی کے دل میں یہ احساس ہوگا کہ اس کالڑ کا گھر آکر سو جائے گا تو بڑی آسانی کے ساتھ وہ اپنے بچے کو تعلیم دلانے پر رضا مند ہو جائے گا۔