خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 402

de سلم লা اللہ تعالئے ہماری اولادوں کو بچائے کہ وہ خراب نہ ہوں ، لیکن ان کی اولادوں کی خرابی ان کے ختیار میں نہیں تھی۔ انہوں نے تو جس حد تک ہو سکا دین کی خدمت کی بلکہ جہاں تک مشلبی اولاد کا تعلق تھا مولانا محمد قاسم صاحب کی اولاد پھر بھی دوسروں سے بہت بہتر ہے ۔ میں جب ندوہ دیکھنے گیا ۔ تو مولویوں نے ہماری بڑی مخالفت کی۔ مگر مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی کے بیٹے یا پوتے جو اُن دنوں نوه کے منتظم تھے انہوں نے میرا بڑا ادب کیا۔ اور مدرسہ والوں کو حکم دیا کہ جب یہ لوگ آئیں تو ان سے اعزاز کے ساتھ پیش آئیں۔ بعد میں انہوں نے میری دعوت بھی کی لیکن میں پیشی کی وجہ سے اس دعوت میں دعوت میں شریک نہ ہو سکا ۔ میرے ساتھ اس سفر میں مولوی سید سرور شاہ صاحب نے - حافظ روشن علی صاحب بنے اور قاضی سید امیر حسین صاحب بھی تھے - اس سے پتہ لگتا ہے کہ ان کے اندر ابھی مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی والی شرافت باقی تھی اگر ان میں وہ شرافت نہ ہوتی تو ہمارے جانے پر جیسے اور مولویوں نے مظاہرے کئے تھے وہ بھی مظاہرہ کرتے لیکن انہوں نے مظاہرہ نہیں کیا۔ اور بڑے ادب سے پیش آئے اور بڑی محبت کے ساتھ انہوں نے ہماری دعوت کی اور استقبال کیا۔ بعد میں انہوں نے مولوی عبید اللہ صاحب کے سندھی کو ہمارے پاس بھجوایا اور معذرت کی کہ مجھے پتہ لگا ہے کہ بعض مولویوں نے آپ سے گستاخانہ کلام کیا ہے مجھے اس کا بڑا افسوس سوس ہے میں انہیں ہمیشہ کہتا رہتا ہوں کہ ایسا نہ کیا کریں لیکن وہ سمجھتے نہیں۔ اس وقت مولوی عبید اللہ صاحب سندھی جو بڑے متمدن اور مہذب آدمی تھے ان کے مشیر کا ر تھے ۔ اور وہ مولوی صاحب کا بڑا لحاظ کرتے تھے اور انہیں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کی باتیں مانتے تھے لیکن اصل بات یہی ہے کہ ماننے والے کے اندر جب تک اطاعت کا مادہ نہ ہو تو چاہے اسے کوئی کتنا بڑا آدمی ہی کیوں نہ مل جائے۔ وہ مفید نہیں ہو سکتا ۔ مولوی محمد قاسم صاحب کے یہ بیٹے یا پوتے جن کا میں نے ذکر کیا ہے ان کا نام غالباً 2 محمد یا احمد تھا ۔ مولوی عبید اللہ صاحب سندھی انہیں ہمیشہ صحیح مشورہ دیتے رہتے تھے اور اور ان سے ایسا کام لیتے تھے جس سے اسلامی اخلاق صحیح طور پر ظاہر ہوں۔ چنانچہ اسی کا یہ کہا نتیجہ تھا کہ انہوں نے میرا بڑا ادب کیا اور دعوت کی اور بعد میں مولوی عبید اللہ صاحب سندھی الله کو میرے پاس بھیج کر معذرت کی کہ بعض مولویوں نے آپ کے ساتھ گستاخانہ کلام کیا ہے جس کا ؟ مجھے افسوس ہے آپ اس کی پرواہ نہ کریں ۔ تو ہماری جماعت کے لئے اس ملک میں بھی ابھی صوفیار کہا کے طریق پر کام کرنے کا موقعہ ہے جیسا کہ دیوبند کے قیام کے زمانہ میں ظاہری آبادی تو بہت تھی ہیں لیکن روحانی آبادی کم ہو گئی تھی۔ روحانی آبادی کی کمی کی وجہ سے مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی : قاسم نے دیکھ لیا تھا کہ یہاں اب روحانی نسل جاری کرنی چاہیے تا کہ یہ علاقہ اسلام اور روحانیت کے ! و اس گر او دارالعلوم ندوہ لکھتا ہے جس کو المی کانپوری نے شہر میں قلم کیا استاد العلما بھی کتے ہیں وہ ایل ایمانی کی سرپرستی