خطبات محمود (جلد 2) — Page 401
اوم شهاب الدین صاحب سہروردی کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں زن تحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں ۔ وہ اپنی زندگیاں براہ راست میرے سامنے وقف کریں تاکہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کا کام کر سکیں۔ وہ مجھ سے ہدایتیں لیتے جائیں اور اس ملک میں کام کرتے جائیں۔ ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت دویران ہو چکا ہے ۔ اور آج بھی اس میں پشتیوں کی ضرورت ہے سرور دیوں کی ضرورت ہے نقش بندیوں کی ضرورت ہے اگر یہ لوگ آگے نہ آئے اور حضرت معین الدین صاحب چشتی حضرت شهاب الدین صاحب سهروردی ، در حضرت فرید الدین صاحب کر گئی جیسے لوگ پیدا نہ ہوئے تو یہ ملک رومانیت کے لحاظ سے اور بھی ویران ہو جائے گا۔ بلکہ یہ اس سے بھی زیادہ ویران ہو جائیگا جتنا مکہ مکرمہ کسی زمانہ میں آبادی کے لحاظ سے ویران تھا۔ پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لئے وقف کریں وہ صدر انجمن احمد یہ یا تحریک جدید کے ملازم نہ ہوں ۔ بلکہ اپنے گزارہ کے لئے وہ طریق اختیار کریں جو میں انہیں بناؤں گا اور اس طرح آہستہ آہستہ دنیا میں نئی آبادیاں قائم کریں ۔ اور طریق آبادی کا یہ ہوگا کہ وہ حقیقی طور پر تو نہیں ہاں معنوی طور پر ربوہ اور قادیان کی محبت اپنے دل سے نکال دیں اور باہر جا کر نتے رہوے اور نئے قادیان بسائیں۔ ابھی اس ملک کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں میلوں میل تک کوئی بڑا قصبہ نہیں وہ جاکر کسی ایسی جگہ بیٹھ جائیں اور حسب ہدایت و ہاں تبلیغ بھی کریں اور لوگوں کو تسلیم بھی دیں۔ لوگوں کو قرآن کریم اور حدیث پڑھائیں اور اپنے شاگرد تیار کریں جو آگے اور جگہوں پر پھیل جائیں۔ اس طرح جائیں۔ اس طرح سارے ملک ہیں وہ زمانہ دوبارہ آجائیگا جو پرا نے صوفیاء کے زمانہ میں تھا۔ دیکھو ہمت والے لوگوں نے پچھلے زمانہ میں بھی کوئی کمی نہیں کی ۔ یہ دیوبند جو ہے یہ ایسے ہی لوگوں کا قائم کیا ہوا ہے۔ مولانامحمد قاسم صاحب نانوتوی نے حضرت سید احمد صاحب بریلوی کی ہدایت کے ماتحت یہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ اور آج سارا ہندوستان ان کے علم سے سے منور ہو رہا رہا ہے۔ ہے ۔ حالانکہ حالانک وہ زمانہ حضرت معین الدین صاحب چشتی کے زمانہ سے کئی سو سال بعد کا تھا لیکن پھر بھی روحانی لحاظ سے وہ اس سے کا سے کم نہیں تھا جبکہ ان کے زمانہ میں اسلام بہندوستان میں ایک مسافر کی شکل میں تھا۔ اس زمانہ میں بھی وہ ہندوستان میں ایک مسافر کی شکل میں ہی تھا حضرت سید احمد صاحب بریلوی نے اپنے شاگردوں کو ملک کے مختلف حصوں میں بھیجوایا جن میں سے ایک ندوہ کی طرف بھی آیا پھر ان کے ساتھ اور لوگ مل گئے اور ان رہنے اس ملک میں دین اور اسلام کی بنیادیں مضبوط کیں۔ اب چاہے ان کی اولاد خراب ہو گئی ہے۔ دارالعلوم دیوبند مراد ہے جو ملا احمد قاسم نانوتوی کے نام پر قاسم العلوم کہلاتا ہے اس دورے کے اصل محرک مولوی فضل الرحمن کیا اور دو اور استند تھے بعد میں مولانا نانوتوی کی سرپرستی میں اسے بہت فروغ حاصل ہوا۔ موج کوثر ۲۰۰ مطبوعہ فیروز سنز یا پورشن )